سعودی شوریٰ نے بزرگوں کی توہین کرنےوالے کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کرلیا

ریاض: سعودی ارکان شوریٰ نے بزرگوں کی توہین کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے بزرگوںکے حقوق اور ان کی نگہداشت کے قانون کے مسودے کی اتوار کے اجلاس میں منظوری دیدی ۔

اجلاس نائب صدر محمد بن امین الجفری کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ قانون 21 دفعات پر مشتمل ہے۔ وزارت محنت و سماجی فروغ ایسے بزرگوں کی دیکھ بھال کرے گی جن کے اہل خانہ اولڈ ہوم میں موجود نہیں ہونگے۔ وزارت ضرورت پڑنے پر بوڑھوں کو مفت قانونی تعاون بھی مہیا کرے گی۔ وہ خدمات عامہ کی فیس سے مستثنیٰ ہونگے۔

سماجی اور صحت خدمات ترجیحی بنیادوں پر مہیا ہوگی۔ مجلس شوریٰ نے واضح کیا ہے کہ یہ قانون معاشرے میں بوڑھوں کے رتبے کے احترام کو یقینی بنانے ، ان کی سلامتی و امن کے تحفظ اور ان کے حقوق بچانے کی خاطر منظور کیاگیا ہے۔ اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ بزرگوں کو اپنے خاندان میں مطلوبہ نگہداشت مہیا ہو اور معاشرہ ان کے ساتھ شایان شان طریقے سے سلوک کرے۔ قانون مذکورہ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بوڑھوں کی مرضی کے بغیر انہیں اولڈ ہوم میں داخل نہیں کیا جاسکا۔

عدالتی فیصلے پر انہیں اولڈ ہوم میں داخل کیا جاسکے گا۔ قانون میں بوڑھے کی دولت کی حفاظت کا طریقہ کار بھی مقرر کیاگیا ہے۔ اس کی دفعہ 14 میں واضح کیاگیا ہے کہ اگر کسی بوڑھے کے ساتھ کسی نے بدسلوکی کی تو اسے پہلے تو وزارت سماجی امور کی جانب سے تحریری طور پر انتباہ جاری کیا جائے گا پھر عدالت سے اس کیخلاف 10 ہزار ریال تک جرمانے اور تین ماہ تک قید کی سزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔ بوڑھے کی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والے کو تین ماہ قید کی سزا ہوگی اور سلب شدہ رقم واپس کرنا ہوگی۔

اگر رقم واپس نہ کی گئی تو اسے جیل سے رہائی بھی نہیں ملے گی۔ ارکان شوریٰ نے دہشت گردی اور اس کی فنڈنگ کے جرائم کی انسداد اور انسداد منی لانڈرنگ قانون میں ترامیم اور اضافوں پر بھی اتوار کے اجلاس میں بحث کی۔ انہوں نے سلامتی امور کمیٹی کو قانون کا مسودہ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔