دماغی امراض میں مبتلا ہونے والے افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں:ماہرین

نیویارک : سائنس دانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

سگریت کے نمائشی اشتہاروں میں ہمیشہ یہ دکھایا اور بتایا جاتا ہے کہ سگریٹ پینے والے بہادر اور کچھ کردکھانے والے ہوتے ہیں لیکن یہ صرف مبالغہ اور مغالطہ ہے کیونکہ سائنس دانوں اور ماہرین اس بات پر زور دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

ماہرین کی ایک ٹیم نے تحقیقات کے دوران معلوم کیا ہے کہ ایسے افراد جن کو عام نوعیت کے خوف سے لے کر مالیخولیا جیسے ذہنی امراض کا سامنا ہوتا ہے ان میں تمباکو نوشی کرنے کا امکان دو گنا ہوتا ہے۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کیرن لاسر کا کہنا ہے کہ سنگین ذہنی امراض سے متاثرہ مریضوں کے ذہن کا ایک حصہ تو یہ ہے کہ انہیں تمباکو نوشی کر نے دی جائے۔
ذہنی امراض کے ادارے میں ایسے مریضوں کو سگریٹ فراہم کی جاتی ہے جن کا رویہ بہتر ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کی مہم میں ذہنی طور پر بیمار افراد کی مدد کرنا چاہئے۔ انہوں نے سگریٹ ساز کمپنیوں پر تنقید کی ہے کہ وہ اپنی اشتہاری مہم میں ایسے افراد کونشانہ بناتے ہیں جو سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 40 فیصد سے زائد سگریٹ ایسے افراد خریدتے ہیں جن کو ذہنی امراض کا سامنا ہوتا ہے۔