امریکی خطرات کی وجہ سے ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے: شمالی کوریا

امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان سمندری علاقوں میں مشترکہ فوجی مشقوںکے بعدشمالی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکی خطرات کی وجہ سے اسے ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگی مشقوں کا نیا سلسلہ جاری ہو گیا ہے جس کے بارے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز پیر سے ہوا ہے اور رواں مہینے کی بیس تاریخ تک جاری رہیں گی- ان فوجی مشقوں میں رونالڈ ریگن طیارہ بحری بردار بیڑوں سمیت چالیس فوجی بیڑے حصہ لے رہے ہیں-

شمالی کوریا نے ان جنگی مشقوں کو اپنے خلاف جنگ کی مشق قرار دیا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا نے گذشتہ اگست میں بھی مشترکہ فوجی مشقیں انجام دی تھیں ۔ جزیرہ نمائے کوریا میں ہونے والی ان فوجی مشقوں میں ستر ہزار فوجیوں نے شرکت کی تھی ۔چین کی وزارت خارجہ نے بھی ان فوجی مشقوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی بڑھے گی-


امریکی صدر ٹرمپ کے نئے جنگ پسندانہ رویے کے باعث شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے-
درایں اثنا روس کے شہر سن پیٹرزبرگ میں عالمی پارلیمانی یونین آئی پی یو کے ایک سو سینتیسویں اجلاس سے خطاب میں شمالی کوریا کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو امریکی دھمکیوں کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ہے- شمالی کوریا کے ڈپٹی اسپیکر آن تانگ چون نے کہاہے کہ شمالی کوریا کے میزائلی اور ایٹمی پروگرام میں توسیع دفاعی نوعیت کی ہے-