عدالت نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا

عدالت نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا

لاہور: پیراگون ہاؤسنگ کیس میں خواجہ برادران کی بریت کی دونوں درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔


تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آج پیراگون ہاؤسنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے درخواست پر سماعت کی۔

جواد الحسن نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا،عدالت نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواست مسترد کر دیں۔خواجہ برادران نیب کی کاروائی کو چیلنج کرتے ہوئے فرد جرم ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔

خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔واضح رہے دو روز قبل لاہور کی احتساب عدالت نے پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی ریفرنس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کرتے ہوئے ان کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

گذشتہ سماعت میں ملزمان کے وکیل اشتر اوصاف نے بریت کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 ءکے مطابق پیراگون کا ریفرنس نیب کی حدود میں نہیں آتا، قانون اور آئین کے مطابق بات کرنا ہمارا فرض ہے۔ دوران سماعت نیب پراسیکوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزمان کے خلاف تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ریفرنس دائر کیا گیا۔

نیب نے پیراگون ہاؤسنگ کیس میں گزشتہ سال دسمبر میں ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ملزمان کو لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنی اہلیہ، بھائی سلمان رفیق، ندیم ضیاء اور قیصر امین بٹ سے مل کر ایئر ایونیو سوسائٹی بنائی، جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے پیراگون رکھ دیا گیا۔

نیب کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیر کی اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر عوام کو دھوکہ دیا اور اربوں روپے کی رقم بٹوری۔نیب کے مطابق ملزمان کے نام پیراگون میں40 کنال اراضی موجود ہے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا جو آج سنا دیا گیا ہے جس کے مطابق عدالت نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔واضح رہے کہ نیب نے پیراگون ہاسنگ کیس میں گزشتہ برس دسمبر میں ضمانت منسوخ ہونے کے بعد خواجہ برادران کو لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا تھا۔