دنیا کی خطرناک ترین قوم

دنیا کی خطرناک ترین قوم

لیجئے صاحب اب ہم دنیا کی خطرناک ترین قوم کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور یہ خطاب ہمیں 75 برس کی دوستی پر محیط ملک کے سربراہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے دیا ہے۔ ہوئے تم دوست، دشمن اس کا آسمان کیوں ہو کے مصداق جو بائیڈن کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ سلپ آف ٹنگ نہیں ہیں کہ ایسے ہی زبان پھسل گئی بلکہ امریکہ کی سوچی سمجھی رائے ہے۔ 75 برس میں ہم نے امریکیوں کے ساتھ وفا کے لیے کون کون سا حربہ نہیں آزمایا۔ روٹھے ہو تم تو کیسے مناؤں پیا۔ رونا لیلیٰ کا یہ گیت یاد آ رہا ہے۔ اہل خانہ کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور یہ تو پھر دو اقوام کے درمیان تعلقات کا معاملہ ہے۔ امریکی ہمیں دوست نہیں ایک مفتوح قوم کے طور پر لیتے ہیں اور ہم برابری کے تعلقات کا خواہاں ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان دوستی کہاں ہوتی ہے۔ آج انسانیت کے لیے پاکستان کا جوہری پروگرام سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے لیکن دنیا پر جوہری بم گرانے کا کریڈٹ امریکہ بہادر کے پاس ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ امریکہ نے شروع کی تھی اور پاکستان اپنے حفاظت کے لیے اس پروگرام میں اس وقت شریک ہوا جب بھارت نے اپنا پروگرام شروع بلکہ اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ بھارت کے جوہری ہتھیار اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول محفوظ قرار دیا جاتا ہے حالانکہ بھارت کا ایک میزائل چند ماہ پہلے ہی مٹر گشت کرتا ہوا پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوا اور میاں چنوں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ جو بائیڈن کی تقریر میں اس حادثے کا ذکر تک موجود نہیں۔

جمعرات کو ڈیموکریٹک کانگریس کی مہم کمیٹی کے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ’اور پاکستان میرے خیال میں شاید دنیا کی خطرناک ترین قوموں میں سے ایک ہے کیونکہ ان کے ’جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے اقدامات نامناسب ہیں‘۔ پاکستان کے جوہری پھیلاؤ پر ماضی میں تنقید ہوتی رہی ہے لیکن پاکستان کے جوہری پروگرام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک نے محفوظ ترین قرار دیا تھا لیکن اب امریکہ نے اپنے دشمن ممالک روس اور چین کا ذکر کیا تو ساتھ ہی پاکستان کو بھی اسی صف میں کھڑا کر دیا۔ جو بائیڈن کی خواہش ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکی دنیا کی قیادت کے فرائض کو سرانجام دیتا رہے لیکن ساتھ ہی وہ اقوام کے درمیان روابط کو بڑھانے اور نئے اتحاد قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ چین کو ایک طرف دشمن ممالک کی صف میں رکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنی ساری انڈسٹری کو چین کی طرف منتقل کرنے کا کام بھی کر رہے ہیں۔ عجیب قوم ہے کہ چین دشمن بھی ہے اور امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں فروخت ہونے والی اکثر مصنوعات چین ساختہ ہیں۔ اپنی ٹیکنالوجی چین کو منتقل کر رہے ہیں اور چین کو دنیا کے سب سے بڑی اقتصادی قوت بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ چین ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی میں کاروبار کرنے کی بات کرتا ہے لیکن یہ خود اس کے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔ امریکہ نے چین کو بڑی منڈی قرار دے کر اپنا مرہون منت کر لیا ہے اور چین خواہش کے باوجود بھی امریکہ اور یورپ کے سامنے کھڑا ہونے کی کوشش کرنے سے محروم ہو چکا ہے۔ امریکہ ڈالرز نے ان کی نفسیات کے ساتھ ساتھ ان کی بود و باش کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ اس دور سے واپس ساٹھ کی دہائی میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے لیکن امریکہ کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ دنیا کو آگے لے کر جا سکے۔ جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ممالک اپنے اتحاد پر نظر ثانی کر رہے ہیں، اور اس معاملے کی سچائی یہ ہے کہ میں حقیقی طور پر اس پر یقین رکھتا ہوں کہ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے، یہ کوئی مذاق نہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے دشمن بھی یہ جاننے کے لیے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہم اسے کس طرح سمجھتے ہیں، ہم کیا کرتے ہیں۔'

تازہ ترین جاری ہونے والی امریکی رپورٹ میں پاکستان کو اتحادی کے طور پر شامل نہیں کیا گیا حالانکہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے بڑے اتحادی کے طور پر کام کیا تھا۔ گزشتہ برس جاری ہونے والی رپورٹ میں بھی پاکستان کو اتحادی ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام دو بار لیا ہے اور پاکستان کو ایک امریکی اتحادی نہیں بلکہ چین کے اتحادی کے طور پر بیان کیا ہے۔ اپنی تقریر میں جو بائیڈن نے کہا کہ

Did anybody think we’d be in a situation where China is trying to figure out its role relative to Russia and relative to India and relative to Pakistan?

(کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ ہم اس صورتحال میں ہوں گے جب ہم چین کے کردار کو روس کے تناظر میں دیکھ رہے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تعلقات کو بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دیکھیں گے۔) اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین کے صدر کی بات کی ہے کہ بطور نائب صدر انہوں نے ان کے ساتھ بہت وقت صرف کیا ہے اور امریکی صدر کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 

This is a guy who understands what he wants but has an enormous, enormous array of problems. How do we handle that? How do we handle that relative to what’s going on in Russia? And what I think is maybe one of the most dangerous nations in the world: Pakistan. Nuclear weapons without any cohesion

(یہ وہ شخص ہے جو جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے لیکن یہ بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔ ہم اس کو کیسے ہینڈل کریں گے اور خاص طور پر جب ہم روس کے حوالے سے کوئی بات کریں؟ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ شائد دنیا کی سب سے خطرناک ترین قوم پاکستان ہے جس کے جوہری ہتھیار بغیر کسی ہم آہنگی یا بے ربط ہیں۔)

پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امریکی سامنے آتے ہیں لیکن وہ ہمارے کردار اور ہماری مجبوریوں سے بھی واقف ہیں۔ سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھنے کا یہ نقصان تو ہو گا کہ ہمیں کسی نہ کسی کے ساتھ نتھی کیا جائے گا۔ بھارت امریکہ کا اتحادی ہے اور دوسری طرف روس سے تیل بھی لے رہا ہے لیکن اس کے کردار پر بات کیوں نہیں ہوتی اس لیے نہیں کہ وہ ایک بڑی معیشت ہے اس لیے کہ وہاں ایک مضبوط جمہوریت ہے۔ امریکہ صدر نے اس تقریر میں جو اپنا تجربہ شیئر کیا ہے کہ صدر بننے کے بعد وہ جی 7 کے اجلاس میں شریک ہوئے، جی 7 جو دنیا کی مضبوط ترین جمہوریتوں کا ایک اتحاد ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ میں نے وہاں موجود سربراہان سے کہا کہ امریکہ از بیک۔ جوبائیڈن نے کہا کہ پتہ ہے انہوں نے کیا جواب دیا۔ ”کتنی دیر تک“۔ اس کے بعد انہوں نے جی سیون ممالک کے اجلاس میں اپنی شرکت کے بارے میں بتایا کہ وہاں موجود سربراہان سے ایک نے کہا کہ جناب صدر آپ تصور کریں کہ کسی دن ہم جاگیں تو پتہ چلے کہ ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ پر حملہ کر دیا ہے اور کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا، برطانیہ سے جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔ یہ دراصل وہ اپنے الیکشن کی بات کر رہے ہیں کہ دنیا نے اس کو کس طریقے سے لیا ہے۔

یہ درست ہے کہ امریکہ اپنے عالمی کردار کو مزید بہتر بنانے کا خواہاں ہے لیکن امریکہ نے اگر یہ سب کچھ کہا ہے تو ہمیں بھی بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ کیا وجہ ہے کہ ہمیں آج امریکی اپنے ساتھ رکھنے کے بجائے چین اور روس کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ چین اور روس امریکہ کے دوست ممالک کی صف میں نہیں بلکہ دشمنوں کی صف میں شمار ہو رہے ہیں۔ ملک کے لیے مضبوط معیشت انتہائی ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مضبوط جمہوریت ضروری ہے۔ مضبوط جمہوریت ہو گی تو باقی شعبے از خود ترقی کرتے رہیں گے ورنہ اسحق ڈار کی طرح ہم اپنے قرضے ری شیڈول کراتے نظر آئیں گے اور دنیا ہمیں ایک خطرناک ترین قوم کے طور پر یاد کرتی رہے گی۔

مصنف کے بارے میں