22سالہ نئی نویلی دلہن کے قتل کا معما حل ہو گیا

22سالہ نئی نویلی دلہن کے قتل کا معما حل ہو گیا

لاہور:مانگامنڈی میں 22 سالہ نئی نویلی دلہن کا قتل یا خود کشی معاملہ ڈراپ سین ٗمزید اصل حقائق پوسٹ مارٹم کے بعد آئیں گے۔


تفصیلات کے مطابق تھانہ مانگامنڈی کے نواحی گاؤں باٹھ میں پر اسرار طور پر قتل کی واردات قصور پورا کے رہائشی فقیر حسین حجام نے اپنی 22 سالہ بیٹی شکیلہ کی شادی یاسر نامی شخص سے کی تھی کہ گزشتہ پانچ دن قبل شکیلہ کی ساس پروین بی بی نے شکیلہ کو اپنے گھر والوں سے پانچ لاکھ روپے رقم لانے کا کہا۔شکیلہ نے اپنے والدین کو فون پر کہا کہ مجھے پانچ لاکھ روپے چاہے والد فقیر حسین کے مطابق رقم نا لانے کی وجہ سے ملزمان نے مبینہ طور پر میری بیٹی پر تشدد کیساتھ گلے میں پھندا ڈال کر قتل کیا گیا ہے اور قتل کرنے کے بعد سب گھر سے فرار ہوگئے تھے

ورثاء نے قصور سے گاؤں باٹھ پہنچ کر پولیس کو اطلاع دی کے ملزمان نے مزکورہ طور پہ قتل کی واردات کی ہے مانگامنڈی پولیس کے سب انسپکٹر محمد ریاض نے جائع وقوعہ پر پہنچ کرِ بغیر تحقیقات کرتے ہوئے نعش کو اپنی حراست میں لے کر تھانے لے گیا اور فوری طور پر کاروائی کرنے کی بجائے ٹال مٹول کرتا رہا چھ گھنٹے نعش کو مردہ خانے منتقل کے کی بجائے ورثاء سے ٹال مٹول کرتا رہا ورثاء کی طرف سے نعش کو روڈ پر رکھ کر احتجاج کرنے کی دھمکی دینے پر سب انسپکٹر ریاض کی طرف سے کاروائی کاآغاز کیا گیا یاد رہے کہ مقتولین کی بہنیں، باپ بھائی تھانے میں پڑھی نعش پر انصاف کیلئے حال دہائی ڈالتے رہے لیکن پولیس اپنے روایتی انداز سے کام لیتی رہی۔