مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 6 امریکی سینیٹرز کا خط

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 6 امریکی سینیٹرز کا خط
image by facebook

نیویارک : امریکی سینیٹرز نے خط میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے جموں کشمیر میں مواصلاتی رابطے بند کر رکھے ہیں، جموں کشمیر میں کرفیو، اظہارِ رائے، اجتماعات، نقل و حرکت پر بندش ناقابلِ قبول ہے۔


 مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر 6 امریکی سینیٹرز نے بھارت میں امریکی سفیر اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو خط لکھا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے خط میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے جموں کشمیر میں مواصلاتی رابطے بند کر رکھے ہیں، جموں کشمیر میں کرفیو، اظہارِ رائے، اجتماعات، نقل و حرکت پر بندش ناقابلِ قبول ہے۔

امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں جبری گرفتاریوں، عصمت دری، رہنماؤں کی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ امریکی سینیٹرز کا خط میں کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی جموں کشمیر کی صورتِ حال پر الرٹ جاری کیے ہوئے ہیں۔

امریکی سینیٹرز نے خط میں مزید کہا ہے کہ جموں کشمیر میں نسل کشی پر جینوسائیڈ واچ کے الرٹ پر گہری تشویش ہے، اس ساری صورتِ حال سے پاک بھارت تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی سینیٹرز نے خط میں اپنے سفیر اور ناظم الامور کو ہدایت کی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں پابندیاں اٹھانے اور صحافیوں کی رسائی کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔