سعودی عرب کی بڑی آئل فیلڈز پر حملے کے دودن بعد پہلا ردعمل

سعودی عرب کی بڑی آئل فیلڈز پر حملے کے دودن بعد پہلا ردعمل

جدہ:سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر ہونے والے حملے کے دو دن بعد عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے انکشاف کیا ہے کہ اس حملے میں ایرانی ہتھیار استعمال ہونے کے شوا ہد ملے ہیں ۔


تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں سعودی عرب کی دو بڑی آئل فیلڈز پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جن میں آرامکو کمپنی کے بڑے آئل پروسیسنگ پلانٹ عبقیق اور مغربی آئل فیلڈ خریص شامل ہیں،یمن کے معاملے پر سعودی عرب کی سربراہی میں بنائے گئے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی دو آئل فیلڈز پر ہونے والے حملے میں ایرانی ہتھیار کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔

ان حملوں کے بعد مشرق وسطی میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے جبکہ امریکہ نے براہ راست ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے تاہم ایران نے اِن الزامات کی تردید کی ہے،کرنل ترکی المالکی کا جدہ میں پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئل فیلڈز پر ڈرون حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملے یمن کی سرزمین سے نہیں ہوئے جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی، مزید تحقیقات کی جارہی ہیں کہ یہ حملہ کہاں سے کیا گیا،ترکی المالکی نے کہا کہ جلد یہ بات میڈیا کے سامنے لائی جائے گی کہ ڈرونز کو کہاں سے حملے کیلئے بھیجا گیا۔