کپتان اور اسٹیبلشمنٹ میں ہم آہنگ پیش رفت

کپتان اور اسٹیبلشمنٹ میں ہم آہنگ پیش رفت

فوج کے افسروں اور جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع اور اسے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض رہنماؤں کی جانب سے جو بیانات دیئے گئے ہیں ان سے یقیناً ہمارے فوجی جوانوں کے دل دکھے ہوں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پوری قوم مسلح افواج کی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے، دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہداء ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ پوری قوم کو مسلح افواج کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔ میری ذاتی رائے میں ناخوشگوار اوردلآزار بحث سیاسی حلقوں میں جو تند و تیز بیانات کی شکل اختیار کر گئی ہے اب قوم و ملک کے وسیع تر مفاد میں ختم ہو جانی چاہئے۔ دشمنانِ پاکستان کی تو یہی کوشش اور خواہش ہے کہ قوم میں تقسیم در تقسیم کا عمل تیز ہو تاکہ ان کے مذموم عزائم اور باطل مقاصد کے حصول کی راہ کی ہر رکاوٹ دور ہونے میں انہیں خود کچھ نہ کرنا پڑے۔ 

اس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہیں کہ فوج قومی ریاست کی داخلی سلامتی اور غیر ملکی جارحیت کے خلاف دفاع کا اہم ستون ہے جب کہ دہشت گردی کے خلاف ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، کسی بھی مہذب ملک میں کوئی جمہوری حکومت اپنی مسلح افواج کے وقار، پیشہ ورانہ کردار، جنگ و امن کی حالت میں اس کی قومی خدمات پر سرشاریت کے ساتھ احترام و عقیدت کے پھول نچھاور کرتی ہے۔ یہ غازی اور شہید ہمارے محسن ہیں، قوم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ جمہوری سیاست میں ابھرنے والی توانا آوازوں، شدید ردِ عمل اور اختلافی نقطہ نظر سے پیدا شدہ صورتحال سیاسی رہنماؤں، مذہبی اکابرین، میڈیا اور سول سوسائٹی سے خاصی سنجیدگی، متانت، رواداری اور تدبر کا تقاضا کرتی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو ہمہ وقت " ہاٹ نیوز" کی تلاش رہتی ہے جو اس کی کمرشل ضرورت اور پیشہ صحافت کی جبلت ہے مگر کسی سیاست دان کو بولنے سے پہلے کئی بار سوچنا چاہئے کہ 

کہیں ہونٹوں نکلی کوٹھوں نہ چڑھ جائے۔ چنانچہ ایک ذرا غیر جذباتی اور سنسی خیزی سے ماورا سیاسی کلچر اپنی جڑ پکڑ لے تو یقیناً صورتحال بدلے گی۔ تاہم اربابِ اختیار کو قومی امور میں حاضر دماغی اور قوتِ فیصلہ کے سنگِ میل قائم کرنا چاہئیں، اہم واقعات پر خاموشی اور مصلحتوں کا زمانہ لد گیا، ہر دم چوکنے رہنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کا حسن رواداری اور حسنِ کلام سے ہے، سیاست اور ڈپلومیٹ کے درمیان بڑا فرق صرف نو کمنٹس کا ہے جو ہزاروں وضاحتوں سے آدمی کو بچا لیتا ہے۔ لیکن یہ چیز سب سے اہم ہے کہ ہماری فوج عوام کے دلوں میں بستی ہے اور یہ عسکری قیادت کا فرض بنتا ہے کہ اس کا وقار بحال رہے۔ عوام اور فوج کے درمیان رشتے کو کمزور نہیں پڑنا چاہئے۔ عوام فوج کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں اور فوجی عوام سے کہتے ہیں تم سکھ کی نیند سو جاؤ ہم جاگ رہے ہیں۔ عموماً یہی دیکھا گیا ہے فوج نے ہر دور میں عوامی رائے کو اہمیت دی ہے اور اس کے فیصلے عوامی سوچ سے مطابقت رکھتے رہے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے جب بھی ملک میں کسی فوجی آمر نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بھی عوام کی اکثریت نے یہی سمجھا کہ فوج تو ان کی اپنی ہے بس چند افسر ایسے آ گئے جو فوج کو اپنی ذات کے لئے استعمال کر گئے اور جیسے ہی فوج کے افسروں کا افسر عوام کے جذبات کا احترام کرنے لگا تو یہ کمزور رشتہ فی الفور دوبارہ سے جڑ جاتا رہا جیسے اس میں کبھی کوئی دراڑ پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

عمران خان اس وقت عوام کے مقبول لیڈر ہیں اوریہ تاثر ابھر رہا ہے کہ انہیں سیاست سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے کیونکہ جمہوریت کی پہلی شرط ہی عوامی رائے ہوتی ہے اور اسی تاثر کی وجہ سے ہی عوام اور عسکری اداروں میں غیر ضروری دوری پید اکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب عمران خان نے خود بھی کہہ دیا ہے کہ ان کا اپنی مسلح افواج سے اختلاف ہو ہی نہیں سکتا اور انہوں نے حکومت کو ایک فارمولہ بھی پیش کیا ہے جس پر عمل کر سیاسی عمل میں جو اس وقت انارکی پھیلی ہوئی ہے اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ خود عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اداروں کے خلاف نہیں ہیں لیکن عوام اور سیاسی جماعتوں کو بھی وہی عزت دی جانی چاہئے جو اداروں کو دی جاتی ہے۔ فیصلے عوام کو کرنے چاہئیں اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے جس کے لئے عوام کے فیصلے ماننے ضروری ہیں ملک میں ادارہ جاتی توازن برقرار رہنا ضروری ہے حتمی فیصلے بند کمروں کے بجائے عوام کو کرنے چاہئیں۔جہاں تک مائنس ون کا تعلق ہے یہ فیصلہ بھی عوام کو کرنا چاہئے نہ کہ کسی اور کو اگر عوام سمجھتے ہیں کہ کوئی لیڈر انہیں لانا ہے تو ان کی مرضی کو فوقیت دی جانی چاہئے۔ عمران خان کو مائنس ون کرنے کی باتیں زبان زدِ عام ہیں، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کا سیاست میں کوئی کردار نہ ہو تو پی ٹی آئی کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جب وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور عوام انہیں برسرِ اقتدار دیکھنا بھی چاہتے ہیں، یہ بہت مشکل ہے۔میری ذاتی رائے میں عمران خان ملک و قوم کا درد پالتے ہیں اور قومی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار میں خلوص سے عوام کی خدمت کی کوشش کی، مالی معاملات میں حد درجہ ایماندار ہیں، سیاسی مرتبے کو اقربا پروری اور فضول خرچی سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ ہماری عسکری قیادت بھی ملکی ترقی کی خواہاں ہے اب جب کہ عوام عمران خان کو پسند کرتی ہے تو میرا خیال ہے کہ عسکری قیادت کسی صورت بھی عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ قانونی اور آئینی ماہرین اس بات کی نشاندہی پہلے بھی کرتے رہتے ہیں کہ مملکت کے تمام ستونوں کو اپنی اپنی متعین کردہ حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہئے۔ یہ وہ مسلمہ اصول ہے جس پر اگر چہ تمام نظام ہائے حکومت میں عمل کر کے معاشرے کو انتشار و افتراق سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم جمہوری نظام میں اس کی پاسداری غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ جب بھی ریاست کے مختلف بازوؤں میں سے کوئی اپنی طے شدہ حدود سے تجاوز کرتا ہے تو معاشرے میں انارکی اور افراتفری کے خطرات جنم لینے لگتے ہیں۔  فوج یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ پاکستانی قوم نے عمر بھر فوج کے لئے بہت قربانی دی ہے، پیٹ پر پتھر باندھ کر اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ فوج عوام کے جذبات کی قدر بھی کرتی ہے خدا کرے یہ روایت زندہ رہے۔

مصنف کے بارے میں