قومی رحمت ا للعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی کافعال ضروری!

قومی رحمت ا للعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی کافعال ضروری!

پارلیمنٹ سے قومی رحمت ا للعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی ایکٹ منظور ہونے کے باوجود تاحال اتھارٹی فعال نہ ہوسکی ہے اورنئے چیئرمین اورممبران کی تقرر ی کاعمل بھی رکاہوا ہے۔موجودہ حکومت نے قومی رحمت اللعالمین وخاتم النبیینؐ اتھارٹی کاترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری اورایوان صدر سے دستخط کے بعد 17اگست کو گزٹ کیا تھا تاہم اتھارٹی کو فعال نہ کیاجاسکا ہے۔وزیر اعظم پاکستان جوکہ اتھارٹی کے پیٹرن ان چیف ہیں، کوچاہیے کہ چونکہ معاملہ قوم اور نسل نو کے کردار کی تعمیر کا ہے لہٰذا پسندوناپسندکی بجائے ایسے قابل افراد کا انتخاب کیاجائے جو سیرت سکالرز ہونے کے ساتھ مختلف شعبہ جات کے ماہر ہوں اورحقیقی معنوں میں اتھارٹی کے فلسفہ، مقصداور پروگرامز کو معاشرے میں عملدر آمد کرانے کی سکت رکھتے ہوں اوراپنا کردار ادا کر سکیں۔ اعزازی دس رکنی مشاورتی کمیٹی ملک کے نامور تعلیم دانوں، سکالرز اورعلمائے کرام پر مشتمل تشکیل دی جائے جبکہ منظورشدہ ایکٹ کے مطابق8مستقل ممبران کے انتخاب جو اتھارٹی ایکٹ ترمیمی شق نمبر6 اور ذیلی دفعہ4 کے مطابق ہے،مستقل فعال اراکین6 کے بجائے 8 تعداد ہے جن میں دومسلمان قومی اسمبلی کے ممبرز6 معروف سیرت نگار سکالر ہیں، ان کی اہلیت کے معیار میں بھی جومختلف شعبہ جات میں تحقیق کی مقبول صلاحیت کاحامل ہونا، جدید تحقیق اورعصری مسائل کی روشنی میں حقائق کو واضح اور سیرت کی اصل روح کی عوام الناس میں اشاعت کرسکناحامل ہونا چاہیئے جو پیغام سیرت کی بنیاد پرنوجوان نسل میں تخلیقی صلاحیت کوابھارنے، روشناس کرانے کے اقدامات کوجدت پسندرسائی اور میڈیاکے ذریعہ پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ بین الاقوامی برادری میں سیرت کی اصل روح اور بیانیے کی تشہیر کرتے ہوئے اسلاموفوبیا کے غلط تصورات کا جوابی بیانیہ فراہم کرنے میں بین الاقوامی دسترس کا ماہر ہو۔ قومی نصاب میں سیرت کی مہارت رکھنے کے ساتھ دیگر مذاہب کے ساتھ مشترکات کی تحقیقات اور تقابل ادیان کا ماہر ہو۔ایسے بے داغ کردار کے حامل سیرت اسکالرزاورتعلیم دان جوکہ مختلف زبانوں کی کتابوں کے تراجم کرنا جانتے ہوں اورنئے تخلیقی خیالات کے ماہر ہوں جبکہ دومسلم ممبرقومی اسمبلی سے ایک حکومتی اور دوسرااپوزیشن کا نمائندہ بھی ترجیح طور پراتھارٹی کے بنیادی مقصد اور اساس کو سمجھنے والا بے داغ کردار کاحامل سیرت اسکالرز یا تعلیم دان نمائندہ ہونا چاہیے، تاکہ اتھارٹی حقیقی معنوں میں قوم اور نسل نو کے کردار کی تعمیر میں اپنا کردارادا کر سکے۔ اس اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد سیرت النبیؐ اور مدینہ کی ریاست کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق اور ان اعلیٰ اقدار کی پاکستانی معاشرے میں عملدرآمد کے فلسفہ کے تحت کیا تھا۔ اتھارٹی کا ایک مقصد سکولزکے نصاب اور سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی مانیٹرنگ کرنا اور بچوں کو اپنی ثقافت سے متعارف کرانے کیلئے کارٹون سیریز بنانا تھا۔ موجودہ نظام تعلیم میں کردار سازی اورتربیت کااہم جز نذرانداز ہے، یقینااس کی بھرپورتلافی تب ہی ممکن ہوسکے گی جب کرداراور تربیت سازی کیلئے ہمہ وقت ایک منظم ادارہ بھرپور طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

ضروری ہے کہ اتھارٹی کے ذمے نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے سیرت النبیؐ اور احادیث پر تحقیق کرنا اوراسکے علاوہ سیرت نبوی کو نصاب کا حصہ بنانے کیلئے متعلقہ ماہرین سے مشاورت اوراسے دنیا کے سامنے اسلام کی وضاحت کا کام بھی سونپا جائے۔نوجوان نسل انتہائی دباؤ کا شکار ہے، بیروزگاری اور جنسی جرائم میں اضافہ پاکستان کے نوجوانوں کا اہم بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے، جس کی بڑی وجہ کردار سازی اورتربیت کا فقدان ہے۔مغربی کلچراپنانے سے ہمارامعاشرہ کیسے بچ سکتا ہے، جب مغربی ممالک کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہوچکاہے۔ بچوں کودکھائے جانے والے کارٹون پروگرام ہماری ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتے،اس سے بچوں کی تربیت پر اثر پڑ رہاہے، موبائل فون نے پوری دنیا بدل دی ہے،اس میں ایسا مواد ملتا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی جوایک چیلنج ہے۔ قصور میں ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات اس کی ایک شرمناک مثال ہے۔ اسی طرح معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے، فحاشی اور منشیات کے اثرات خاندانی نظام پر پڑرہے ہیں، ہمیں اپنے نوجوانوں کواس کے معاشرتی اثرات سے بچانا ہے۔ اگر ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرناہے تو ہمیں نوجوانوں کی کردار سازی کرنے کیلئے قرآن کوسمجھنے کی ضرورت ہے اور ہمیں نبیؐ کی اتباع کرنا ہو گی۔ اگرحقیقی معنوں میں ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔نبی کریم ؐپوری انسانیت کیلئے رحمت ہیں، قانون کی حکمرانی، فلاح وبہبود،علم کے حصول پر غیر متزلزل توجہ ہونی چاہیے۔یہ اتھارٹی سیاسی،سماجی اورمعاشی اعتبارات سے بھی ان تمام سفارشات کا جائزہ لینے کی مجاز ہو جو عدل وقسط پر مبنی ایک صالح معاشرے کے قیام کیلئے سامنے لائی جائیں۔ رحمت اللعالمینؐ کی بعثت کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ وہ نظام عدل اجتماعی کوکل نظام زندگی پر اس طرح غالب کردیں کہ کوئی گوشہ زندگی اس سے مستثنیٰ نہ رہیں۔

رحمت اللعالمین اتھارٹی و خاتم النبیینؐ اتھارٹی کااہم مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کیلئے دنیا بھرکے اسکالرز سے رابطہ کرے اور دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کیا جائے۔اتھارٹی مغربی تہذیب کے مسلم معاشرے پر اثرات اسکے نقصانات اور فوائد پر بھی تحقیق کرے،نوجوانوں پر سوشل و ڈیجیٹل میڈیا اثرات سے محفوظ بنانے کیلئے بھی کام کرے۔رحمت اللعالمین اتھارٹی کا کام ترجیحی بنیادوں پر سیرتِ طیبہ کے عملی زندگی پر اطلاق اور معاشرے میں موجود خلاء کی نشاندہی کرکے تحقیق سے مسائل کا حل ڈھونڈنے میں معاونت کرنا ہو۔

اب تک کی پیشرفت ومانٹرنگ اور سیرتِ طیبہ کے پہلوؤں کونصاب میں شامل کرنے پر بھی ٹائم فریم دیا جائے، تاکہ قومی وعالمی سطح پراسلام بارے غلط فہمیوں کو دورکرکے حضورؐ کی زندگی کے اہم اسباق کی تشہیر و تبلیغ بھی ہوسکے۔وزیراعظم کا قومی رحمت ا للعالمین و خاتم النبیینؐ اتھارٹی بنانے کا فیصلہ بڑاقدم ہے، قرآن، حدیث، درودوسلام اوراسوہئ حسنہ پر کردار کے زریعے عملدرآمد کرکے ہم دنیا کی طاقتور ترین قوم بن سکتے ہیں۔وزیر اعظم ہر جگہ ہمارے آقانبیؐ کی بات کرتے ہیں جو بات دل سے کی جائے وہ اثر کرتی ہے، اتھارٹی کے قیام کے دور رس نتائج تب ہی حاصل ہونگے جب وزیراعظم پاکستان کا عزم اور یہ اتھارٹی اس وڑن کی عکاس ثابت ہوسکے۔اس ضمن میں سول سوسائیٹی اور علما کرام کا کردار انتہائی ناگزیر ہے تاکہ پاکستان کو فلاحی اسلامی ریاست بنایا جا سکے۔ فلاحی اسلامی ریاست محض ایک اتھارٹی کے قیام یا نوٹیفکیشنز جاری کرنے سے نہیں بنے گی، ہمیں اپنی سیاست،معیشت، عدالت، سماج اور تمدن کو آقاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا،اور اس کیلئے ہمیں رہنمائی مغرب زدہ آئین ودستور سے نہیں ملے گی بلکہ قرآن وسنت اور درودوسلام پر عملدرآمد کی برکت سے ملے گی۔حکومت اور قومی رحمت ا للعالمین و خاتم النبین ؐ اتھارٹی کو قرآن وسنت اور سیرت طیبہ کی روشنی میں معاشرے میں موجود معاشی، قانونی وسیاسی ناہمواریوں کو دور کرکے ریاست مدینہ کے رہنما اصولوں پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرنا ہو گا۔

مصنف کے بارے میں