سنو نگم نے بھارت میں “اذان” کیلئے لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی مخالفت کر دی

سنو نگم نے بھارت میں “اذان” کیلئے لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی مخالفت کر دی

 ممبئی: دنیا میں موسیقاروں کو کو امن کا پیامبر سمجھا جاتا ہے لیکن بھارتی موسیقار امن کے بجائے نفرت کے گن گانے لگے ہیں۔ سنونگم نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں پھر مجھے صبح کیوں جگا دیا جاتا ہے۔


گلوکار کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے اذان کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا جاتا ہے جو تکلیف کا باعث بنتا ہےاس پر پابندی لگنی چاہیئے۔ سونگم نے تمام حدیں عبور کرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی حق کو غنڈہ گردی سے بھی جوڑ کر جہاں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی وہیں بھارتی انتہا پسندؤں کو مسلمانوں پر ظلم کرنے کی نئی وجہ بھی مہیا کر دی ہے۔

سنو نگم کے اس ٹویٹ پر گلوکار کو بھی کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں لیکن آپ کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیئے تھی اور دوسرے مذہب کی عزت کرنے چاہیئے۔

ایک صارف نے سنو نگم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں بھی ایک ہندو ہوں اور ایسی پریشانی کا سامنا غیر ہندوؤں کو بھی کرنا پڑتا ہے جب ہم نوراتری اور گینش جی کا جلوس نکالتے ہوئے لاوڈ اسپیکر کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت میں آج تک کسی مسلمان کی طرف سے مندروں میں کی جانے والی عبادت کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی مسلمان نے یہ کہا ہے کہ صبح سویرے مندروں کی گھنٹی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور اس پر پابندی لگائی جائے۔

بھارت میں آئے روز انتہا پسندی کی اس طرح کی آواز کے باعث آج بھارت میں اقلیتیں سب سے زیادہ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں