مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے کیلئے دباﺅ ڈالا گیا، دوست عبداللہ

مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے کیلئے دباﺅ ڈالا گیا، دوست عبداللہ

پشاور: مشال کے دوست عبداللہ کے عدالت میں بیان کی کاپی نیو نیوز نے حاصل کر لی۔ عبداللہ نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا یونیورسٹی میں جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کا طالب علم ہوں کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ پیدائشی مسلمان ہوں اور نبی کریم ﷺ آخری پیغمبر ہیں۔


اس کا اپنے بیان میں کہنا تھا مشال خان سے دو ماہ قبل دوستی ہوئی ان سے کبھی گستاخانہ بات نہیں سنی۔ وقوعہ کے روز 11 بجے عباس نے ٹیلی فون کر کے ڈیپارٹمنٹ میں بلایا۔ کلاس کے سی آر مدثر بشیر اور دیگر نے بتایا کہ میرے، مشال اور زیبر کے اوپر توہین مذہب کا الزام ہے۔ میں نے تردید کی اور ان کے سامنے کلمہ پر اردو اور پشتو میں ترجمہ کیا۔

عبداللہ نے اپنے بیان میں بتایا مجھے مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے کیلئے دباﺅ ڈالا گیا۔ دباﺅ کے باوجود میں نے کہا کہ مشال خان سے میں نے کبھی گستاخانہ بات نہیں سنی۔ حالات کشیدہ ہونے پر تین اساتذہ نے مجھے بچانے کیلئے باتھ روم میں بند کر دیا تھا ۔ مجھ سے پوچھ گچھ کے دوران مجھے مشال خان کے بارے کوئی پتہ نہیں تھا۔

مشال خان نے کچھ روز قبل نجی پشتو ٹی چینل پر انتظامی بے قاعدگیوں کے حوالے سے انٹر ویو دیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نجی ٹی وی چینل کو انتظامی بے قاعدگیوں پر بات کرنے پر مشال سے ناراض تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں