ترک صدر نے اپنی شہادت کی پیش گوئی کر دی

ترک صدر نے اپنی شہادت کی پیش گوئی کر دی

انقرہ: ترک صدر طیب اردوان نے صدراتی ریفرنڈم کی مہم کے دوران مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اور شہدا کے حوالے سے ایک نظم پڑھی جس لاکھوں کا مجمع فرد جذبات سے آبدیدہ ہو گیا تھا۔ اس خطاب کے دوران ترک صدر نے اپنی شہادت کی پیش گوئی بھی کی اور ایک نظم پڑی جس اردوترجمعہ کچھ یوں ہوا۔


وہ تمھارے دل کی پکار ہے جو تمہیں تمھارے ماضی خلافت عثمانیہ کی طرف بلاتی ہے،میں کبھی تم سے مایوس نہیں ہوا،تمھارے دلوں میں جذبوں کا ایک طوفان ہے،اے میری پیاری قوم مجھے سب سے زیادہ محبوب۔میں تمام تعریفیں رب العالمین کے لیے خالص کرتا ہوں،میں حمد کرتا ہوں جس نے اس دور میں ہمیں اپنے مقصد کے لیے چنا،جس نے حوصلہ اور جوش عطا کیا۔ جس نے ہمیں صبر کی تعلیم اور مزاحمت کا حوصلہ دیا،تعریف اس کی جو نے ہمیں خوبصورت اقدار بخشا،جس نے ہمارے دلوں میں محبت بھر دی، اے میری پیاری قوم میرے محبوب لوگ،زمین پر میرے مقصد کو طول نہ دو،کیا پرندے تمیں خبر نہیں سناتے،یہاں تمہارے شہدا کی قبروں سے بہار امڈ آتی ہے

، جب محبوب کا ساتھ ہو تو بے حیات انسان سے بھی محبت ہو ہی جاتی ہے۔،میں تم سے مایوس نہیں ہوں لیکن ایک شیطانی آنکھ ہے جو مجھے پریشان کرتی ہے،ہمیں پھر بھی یہاں محبتوں بھرے گیت گانے ہیں،اس کی پروا نہیں کرنی ہمارے مقابل کیا کرتے ہیں،یاد رکھیں کچھ چیزیں رب کی طرف طے شدہ ہیں، وہی رب ہے جو رات گزارنے کا سبب پیدا کرتا ہو،ممکن ہے میں اس راستے میں شہید ہو جاوں لیکن میری خاک سے کامرانی کے  قلعے  تعمیر ہونگے،یاد رکھنا ہر شکست کے بعد ایک فتح ہے،تمہارے پاس فتح کی کنجی قرآن مجید موجود ہے۔