فلم بیگم جان کی کہانی طوائف کی زبانی سنائی اوردکھائی گئی ہے

فلم بیگم جان کی کہانی طوائف کی زبانی سنائی اوردکھائی گئی ہے

فلم بیگم جان کی کہانی طوائف کی زبانی سنائی اوردکھائی گئی ہے

بالی ووڈ:فلم بیگم جان کی  کہانی طوائف کی زبانی سنائی اوردکھائی گئی ہے اس فلم کا مرکزی خیال ایک سچے واقعے سے منسوب اُس دوسرے دھڑے سے تھا، جنہیں تقسیم قبول نہیں تھی۔ 


کہانی:

طوائف کی آنکھ سے دیکھی ہوئی تقسیم کے دنوں کی کارگزاری ہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے، مگر فلم کی کہانی پر مکمل طورسے عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے افسانوں کی چھاپ ہے، بلکہ یہ کہا جائے کہ کہانی میں کچھ نیا نہیں، ان دونوں کی کہانیوں کو ہی اسکرین پلے کی طرح دکھایا گیا ہے، توبے جانہ ہوگا۔ کوثر منیر نے اس کے مکالمے لکھے ہیں، ان کا گیت نگاری کا عمدہ پس منظر ہے، مگر اس فلم کے مکالموں میں ان کا ہنر کہیں دکھائی نہیں دیا، البتہ کہیں کرداروں کے استعارے میں کچھ معنی خیز اورتلخ حقائق بیان کیے گئے ہیں، جیسے کہ ایک ماسٹر جی کا کردار، جو کانگریس کے کارکن تھے اورطوائف کو محبت کے دام میں پھنسا کر نئے دامو ں پر فروخت کردیا۔

ہدایت کاری:

وشیش فلمز پروڈکشن کے تحت یہ فلم بنی ہے۔ مکیش بھٹ اس کے فلم ساز ہیں۔ اس موضوع پر فلم بنانے کے مقام سے لے کر، حویلی کے حوالے سے، کہانی کو فلمانے کی بہترکوشش کی گئی۔ کاسٹیوم، ایڈیٹنگ، سینما فوٹوگرافی اور دیگر پہلوؤں سے فلم بہتر رہی، اس موضوع پر مزید بہتر طریقے سے کہانی کو فلمایا جاسکتا تھا، مگر شاید ہدایت کار نے روایتی طریقے کو اپناتے ہوئے لگے بندھے اصولوں کے تحت فلم کو بنایا، طوائف کے کردار میں جان ڈالنے کے لیے، اس کے جسم کے علاوہ بھی کئی زاویے ہوتے ہیں، جن پر ہدایت کار کی توجہ نہیں گئی۔ صداکاری کے لیے امیتابھ بچن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔