اسلام آباد: احتساب عدالت میں غیر رسمی گفتگو کر تےہوئے سابق وزیراعظم نواز شیر یف نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے لگائی گئی پابندی ابھی سمجھ نہیں آرہی، جب آئے گی تو اس پر بھی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ زبان بندی والے دور اب نہیں رہے۔آپ کسی کی زباں بندی نہیں کرا سکتے اگر یہی صورت حال رہی تو مستقبل میں بہت بڑا انتشار دیکھ رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:عدلیہ مخالف تقاریر،لاہور ہائیکورٹ نے نوا زشریف اور مریم نواز پر عبوری پابندی لگادی،پیمرا کو 15 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم
 

سابق نااہل وزیراعظم نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ قانونی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج سب کا حق ہے۔جو بھی انسانی حقوق اور ظلم کے خلاف بات کر رہا ہے ہم اس سے متفق ہیں انہوں نے کہا کہ یہ چند لوگوں کا نہیں 22 کروڑ عوام کا ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ آئے دن وزیر اعظم نکالے جاتے ہیں پانچ جج بیٹھ کر فیصلہ دے دیتے ہیں نواز شریف نے کہا کہ چاہتا ہوں سب ملکر چلیں اور ابھی بھی سبق سیکھیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے لئے درگزر کیا دوسری جانب سے بھی ہونا چاہئے۔

 یہ بھی پڑھیں:عدلیہ مخالف تقاریر کیس، نواز شریف نے لاہور ہائیکورٹ کے بنچ پر اعتراض اٹھا دیا
 
 خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف اور توہین آمیز تقاریر کو نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی۔بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے پیمرا کو عدلیہ مختلف تقریر سے متعلق زیر التوا درخواستوں کا 15 روز میں فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں