شام پر حملہ ٹرمپ کے کہنے پر نہیں کیا، ایسا کرنا ضروری تھا: تھریسامے

فوٹو بشکریہ فیس بک

لندن: برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی حکومت نے اپنی عوام پر چار بار کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں تھریسامے نے شام میں فوجی کارروائی کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ہماری فوجی مداخلت کا وہاں پر جاری خانہ جنگی کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہم نے یہ اقدام شامی رجیم کو تبدیل کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ شام میں فوجی کارروائی کا مقصد اسد رجیم کو اپنی قوم کے خلاف کیمیائی حملوں سے باز رکھنا ہے۔

تھریسا مے نے مزید کہا کہ شام پر حملہ اس وقت کیا گیا جب اسد رجیم کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ٹھوس ثبوت سامنے آئے اور اس حملے نے شام کے کیمیائی ہتھیار اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت ختم کردی۔

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے شام میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کیا مگر روس نے ہمارا راستہ روکا۔ ہم نے شام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایسا کرنا ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں فوجی کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ اس کے بعد برطانیہ شام میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔