پنجاب حکومت نےمعروف اخبار  نئی بات کے اشتہارات بند کر دئیے

  پنجاب حکومت نےمعروف اخبار  نئی بات کے اشتہارات بند کر دئیے
Image Source :Twitter

لاہور:ذمہ دار صحافت کے فرائض انجام دینے والے ملک کے معروف اخبار  نئی بات کے  پنجاب حکومت کی طر ف اشتہارات بند کر دئیے گئے ، نئی بات کے اشتہار بند کرنے پر پنجاب اسمبلی میں بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور تحریک التواءبھی پیش کر دی گئی .تحریک التواءلیگی ایم پی اے عنیزہ فاطمہ کی طر ف سے پیش کی گئی۔


 

نئی بات کے اشتہار بند کرنے پر ملک کی مختلف سیاسی،صحافتی اور سماجی شخصیات نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ،صحافتی حلقوں میں ایسے اقدامات کی پرزور مذمت کی گئی ،اسی سلسلے میں صدر پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ نئی بات  کے اشتہار بند کرنے پر لاہور پریس کلب اور ملک کی تمام صحافی برادری اس کی پرزور مذمت کرتی ہے ،ان کا کہنا تھا ایسے اقدام آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر قدغن ہے ۔

 

صدر پی ایف یو جے راناعظیم نے کہا کہ روزنامہ نئی بات کے اشتہار بند کرنا آزادی صحافت پر حملہ ہے ،اور اگر سچ دکھا نا جرم ہے سچ بولنا جرم ہے سچ کو سامنے لانا جرم ہے تو پھر پاکستان کی تمام صحافتی برادری نیو ٹی نئی بات اور لاہور رنگ کیساتھ مل کر کرے گی ۔

 

جنرل سیکرٹری لاہور فوٹو جرنلسٹ ایسو سی ایشن پرویز الطاف کا کہنا تھا کہ روزنامہ  نئی بات کے اشتہار بند کرکے صحافیوں کا معاشی قتل بند کیا جائے ،بہتر ہو گا اشتہار بحال کیے جائیں ،ورکروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے یہ کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے ،یہ صحافیوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے ،ہم پنجاب حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کر تے ہیں ،یہ حکومت کی طرف سے کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے ۔

 

سینئر نائب صدر لاہور پریس کلب ذوالفقار مہتو کا کہنا تھا کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری کے حالات ویسے ہی خراب ہیں اخبارات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت  کو ایسے اقدامات سے گریز کر نا چاہیے ،صحافی برادری اس سے قبل بھی بہت سے ایسے اقدامات کا سامنا کر چکی ہے اور آئندہ بھی کرنے کیلئے تیار ہے ،ذوالفقار مہتو کا کہنا تھا کہ ہم صحافی برادری مل کر حکومت کے ایسے اقدامات کا مقابلہ کرینگے اور شکست بھی دینگے ۔