امریکا کو مذہبی آزادیوں بارے رائے دینے کا حق نہیں ہے،ایران

امریکا کو مذہبی آزادیوں بارے رائے دینے کا حق نہیں ہے،ایران

تہران :ایران نے دنیا کے دیگر ملکوں میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں امریکی رپورٹ کو غیرحقیقت پسندانہ قراردیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے دنیا کے دیگر ملکوں میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ ایران اس رپورٹ کو غیر حقیقت پسندانہ اور دشمنانہ سمجھتاہے جو صرف سیاسی مقاص کے لئے تیار کی گئی ہے۔


ترجمان نے مذاہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں ذکر کی گئی تشریحات کے بارے میں کہا کہ مذاہب اور عقائد کے بارے میں خود ساختہ اور بے بنیاد تشریحات کا انجام مذاہب کے درمیان مشکلات اوربحران پیدا ہونے کی صورت میں نکلتاہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام بنیادی آئین کے اعلی اصولوں کے مطابق آزادانہ طریقے سے اور قانون کے دائرے میں اپنی مذہبی رسومات انجام دیتے ہیں اور قانون بھی ان آزادیوں کی پاسداری کرتاہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکا کے مسلمانوں کو سرکاری مشینریوں اور پولیس کے ذریعے روزانہ تشدد آمیز اور نسل پرستانہ اقدامات کا نشانہ بنایا جاتاہے اور امریکا میں مذہبی مقدسات اور عقائد کی توہین مساجد اور عبادتگاہوں پر حملہ روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ دیگر ملکوں میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال کے بارے میں رائے دینے کے بجائے جلد سے جلد امریکی مسلمانوں کے حقوق کی رعایت اور مذہبی آزادی کی حمایت کے لئے عملی اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں ایران پر الزام لگایا ہے کہ صدر حسن روحانی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایران میں

اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔