الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات محض چہرے بدلنے کی ریہرسل ہے: سراج الحق

الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات محض چہرے بدلنے کی ریہرسل ہے: سراج الحق

لاہور :  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے ۔سیاسی قیادت الیکشن اصلاحات کے نفاذ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل دے ۔الیکشن ریفارمز کے بغیر انتخابات محض چہرے بدلنے کی ریہرسل ہے ۔انتخابات میں دولت کے بے دریغ استعمال کورو کنااورانتخابی بے قاعدگیوں کا ذمہ دار براہ راست پریزائیڈنگ آفیسر کو قرار دیا جائے ۔ اربوں روپے خرچ کرکے اور ووٹ خرید کر الیکشن جیتنا سب سے بڑی دھاندلی ہے ۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں اپنی صدارت میں ہونے والے جماعت اسلامی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابی اخراجات کی خود نگرانی کرے اور اخراجات کی مقررہ حد سے تجاوز کرنے والوں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا جائے ۔آئین کی دفعہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا نہ اترنے والے امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے ۔امریکہ کی طرف سے حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا دنیا بھر کی آزادی پسند قوموں کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے ۔ٹرمپ مودی کی محبت میں تمام اصولوں کو فراموش کرچکا ہے ۔

 ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل انتخابات میں بہتری کیلئے جو تجاویز دی تھیں ابھی تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور نہ انتخابات میں دھاندلی روکنے کا کوئی فول پروف نظام دیا گیا ہے ۔سیاست کو جاگیر دار وڈیر ے اور سرمایہ دار اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں ،سیاسی پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ اکثر سیاسی جماعتیں خاندانی پراپرٹی بن گئی ہیں ،چند خاندانوں نے سیاست اورجمہوریت کویرغمال بنا رکھا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی نگرانی میں سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کروائے تاکہ سیاسی جماعتوں سے موروثیت کو ختم کیا جاسکے ۔ الیکشن میں اربوں روپے خرچ کرکے اور ووٹ خرید کر اسمبلیوں میں پہنچنے والے عوام کی بجائے اپنی خدمت میں لگ جاتے ہیں اور پھر الیکشن پر خرچ کی گئی رقم کا کئی گنا وصول کرتے ہیں ،کرپشن اور بددیانتی کرنے والے انتخابی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کراسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں ۔

نیوویب ڈیسک< News Source