شام: شہریوں کے انخلا کا نیا معاہدہ طے پا گیا

شام: شہریوں کے انخلا کا نیا معاہدہ طے پا گیا

دمشق: شام میں متعدد علاقوں میں پھنسے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے حکومت اور باغیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔گذشتہ چند ہفتوں میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے باعث ہزاروں عام شہری اور باغی حلب شہر چھوڑنے کے لیے پرامید ہیں۔


ہفتہ کو اعلان کیے گئے اس معاہدے میں باغیوں کے زیرِ اثر اور حکومت کے کنٹرول میں دو دو قصبوں سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔گذشتہ چند روز میں حلب سے تقریبا 6000 افراد نکل چکے ہیں تاہم جمعے کے روز شہریوں کا انخلا روک دیا گیا تھا۔جمعے کے روز حلب میں اس وقت افرا تفری پھیل گئی جب حلب سے عام شہریوں کے انخلا کے دوران فائرنگ کے واقعات ہوئے اور انخلا کو روک دیا گیا۔ حکومت اور باغی گروپوں دونوں نے ہی ایک دوسرے پر فائرنگ کی ذمہ داری ڈالی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس اختتامِ ہفتہ پر ایک فرانسیسی مجوزہ معاہدے پر ووٹنگ متوقع ہے جس کے تحت شام میں آپریشن کی نگرانی بین الاقوامی مبصرین کریں گے، حلب میں امدادی سامان لے جایا جائے گا اور ہسپتالوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ اثر مشرقی حلب میں سردی اور بھوک سے پریشان ہزاروں عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

جمعے کو امریکی صدر اوباما نے شامی صدر بشار الاسد اور ان کے حامیوں روس اور ایران پر ظلم کرنے کا الزام لگایا اور کہا تھا کہ اس صورتحال پر دنیا خوف میں متحد ہے۔ ہفتہکے روز متعدد حکومتی اور باغی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انخلا کا نیا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مندرجہ ذیل نکات ہیں:مشرقی حلب سے باغیوں اور عام شہریوں کے انخلا کو دوبارہ شروع کرنا۔

ادلیب صوبے میں باغیوں کے محاصرے میں شیعہ اکثریتی قصبوں فوح اور کفرایہ سے انسانی ہمدردی کی بنیادیوں پر لوگوں کو نکلنے دینا،لبنانی سرحد کے قریب حکومتی محاصرہ میں دو قصبوں مدایہ اور زبدانی سے زخمیوں کے انخلا کی اجازت دینا،اگرچہ شام کی حکومتی فورسز نے روسی فضائیہ کے حملوں کی مدد سے مشرقی حلب کے ان تمام علاقوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جو باغیوں کے قبضے میں تھے، لیکن شام میں جاری جنگ کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے شامی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ جو کچھ حلب میں کر رہی ہے وہ 'کسی قتل عام سے کم نہیں۔' انھوں نے شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں امن کی بحالی کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دیں۔شام اور روس، دونوں بار بار اس الزام کی تردید کر چکے ہیں کہ ان کی فوجی مشرقی حلب میں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ادھر روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعے کو ایک اسی جنگ بندی پر متفق ہو جائیں جس کا اطلاق پورے شام میں ہو۔جاپان کے دورے کے دوران روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس اور ترکی شامی حکومت اور مخلاف فریق کے درمیان گول میز مذاکرات کے ایک نئے دور کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ مذاکرات جینوا میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام جاری مذاکرات کے علاوہ ہوں گے.

نیوویب ڈیسک< News Source