آئین شکنی کیس، پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی

آئین شکنی کیس، پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی گئی
خصوصی عدالت میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔ خصوصی عدالت میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے دورانِ سماعت استغاثہ کی شریک ملزمان کے نام کیس میں شامل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔


استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز کو بھی شریک ملزم بنایا جائے۔

خصوصی عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے، آپ نے ترمیمی شکایت داخل کرنے سے متعلق وفاقی کابینہ کی منظوری لی؟

وکیل استغاثہ علی باجوہ نے جواب دیا کہ سیکریٹری داخلہ کو 12 دسمبر کو خط لکھا تھا۔عدالت نے ہدایت کی کہ ہمارے سامنے اس سے متعلق کوئی درخواست نہیں، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں۔

وکیل استغاثہ علی باجوہ نے کہا کہ ہم 2 مزید گواہان پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس سیٹھ وقار نے کہا کہ آپ استغاثہ ہو کر ملزم کے دلائل دے رہے ہیں، آپ پرویز مشرف کی بریت کی درخواست کی مخالفت کریں گے یا نہیں؟

وکلائے استغاثہ علی باجوہ اور منیر بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم بریت کی درخواست کی مخالفت کریں گے۔

عدالت نے سماعت کے دوران متعدد بار ہدایت کی کہ استغاثہ اپنے دلائل شروع کرے۔وکیل استغاثہ علی باجوہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیئر ٹرائل کا فیصلہ بھی آچکا ہے۔جسٹس سیٹھ وقار نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھنا ہے۔

پرویز مشرف کے سابق وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں بولنے کی اجازت مانگ لی۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ ہم آپ کو بولنے کی اجاز ت نہیں دے سکتے، آپ پہلے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے پر ریویو کرائیں، یہ پیچیدہ مقدمہ ہے، آپ کو اجازت نہیں دے سکتے، البتہ آپ رضا بشیر کی معاونت کر سکتے ہیں۔

جسٹس سیٹھ وقار نے کہا کہ اشتہاری کا کوئی حق نہیں ہوتا جب تک وہ عدالت کے سامنے سرینڈر نہ کرے۔ جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ 100 فیصد بد دیانتی کر رہا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ پرویز مشرف کو 342 کا بیان دینے کا ایک اور موقع دیں۔

جسٹس سیٹھ وقار نے کہا کہ عدالت نے موقع فراہم کیا، اب وہ وقت گزر چکا ہے، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں، آپ 342 کا بیان دیں، آپ کو سن لیا، آپ کا شکریہ۔ خصوصی عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا تھا۔