اشتہاروں کے ذریعے کریم بیچنے والی کمپنیاں ہمیں زبردستی چِٹا کرنا چاہتی ہیں، زرتاج گل

اشتہاروں کے ذریعے کریم بیچنے والی کمپنیاں ہمیں زبردستی چِٹا کرنا چاہتی ہیں، زرتاج گل
کیپشن:   اشتہاروں کے ذریعے کریم بیچنے والی کمپنیاں ہمیں زبردستی چِٹا کرنا چاہتی ہیں، زرتاج گل سورس:   فائل فوٹو

کراچی: وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا تھا کہ رنگ گورا کرنے والی کریم میں مرکری کی مقدار کو بڑھا کر خواتین کی جلد سے کھیل رہی ہیں۔ کراچی  چیمبر میں مرکری پروڈکٹس سے متعلق سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 59 اسکن وائٹ کریم کا ٹیسٹ کیا ہے لیکن صرف تین کے اندر مقررہ معیار کا مرکری پایا گیا۔ 

وزیر مملکت نے کہا اس وقت انڈسٹری والے اشتہاروں کے ذریعے ہمیں زبردستی چِٹا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ عوام کو زبردستی کاسمیٹک بیچا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے ہمیں بیمار کیا جا رہا ہے تاہم اب کسی کو لوگوں کی جلد سے کھلینے نہیں دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کا کمپنیوں نے مردوں میں بھی گورے ہونے کا کمپلیکس ڈال دیا ہے لیکن حکومت کاسمیٹک کمپنیوں کو بند نہیں کرنا چاہتی۔ یہ لوگ منسٹر کے ساتھ مل کر پلان شیئر کریں اور کاسمیٹک کمپنیز ہماری اسکن بہتر بنائیں۔ 

زرتاج گل نے کہا یکم جنوری سے کاسمیٹکس میں مقررہ معیار سے زائد مرکری استعمال کی جانچ کریں گے اور اس پر سختی نہیں ہو گی لیکن مشاورت سے پیش رفت ضرور ہو گی۔ 

خیال رہے کہ اکتوبر 2020 میں بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ اسکن وائٹننگ کریمیں جلد اور صحت کے لیئے نقصان دہ ہیں۔ مرکری (پارہ) ایک بہت خطرناک چیز ہے، تھرمامیٹر، بی پی آپریٹر اور ڈینٹل کی فلنگ مرکری سے ہوتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر چیز کو مرکری سے پاک کریں، رنگ گورا کرنے والی کریموں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا 59 کریموں کا لیب ٹیسٹ کیا جس میں 57 میں مرکری پایا گیا اور اس میں انٹرنیشنل برانڈز بھی شامل ہیں جبکہ صابن کے ٹیسٹ کیے جن میں 14 میں سے 4 صابن جلد کے لیے خطرہ ہیں۔

زرتاج گل نے کہا کہ ہم کسی چیز کو ختم نہیں کرینگے نہ کسی کا کاروبار خراب ہو گا بلکہ تمام کمپنیز کے مالکان سے مل کر مسئلے کا حل نکالیں گے، اب تمام ٹیسٹ پی ایس کیو سی اے سے ہونگے کیونکہ اسکن وائٹننگ کریمیں جلد اور صحت کے لیئے نقصان دہ ہیں، سونے کی کانوں میں بھی مرکری کا استعمال ہوتا ہے۔ گلگت میں بھی 150 فیملیز پر تحقیق کی اور ہر فیملی میں ایک بچہ معذور ہے۔