زینب قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

زینب قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 15 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا جائے گا۔


کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے 15 فروری کو کیس کی سماعت کی تھی۔ استغاثہ کی جانب سے زینب کیس کے ملزم عمران کے خلاف 56 گواہان پیش کیے جب کہ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹس کے مطابق عمران ہی زینب کا قاتل ہے۔

یاد رہے کہ زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم عمران پہلے ہی اعتراف جرم کر چکا ہے جب کہ اس کے وکیل نے ملزم کے اعتراف جرم کے بعد کیس سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں ملزم کو سرکاری وکیل دے دیا گیا تھا۔

 

کیس کا پس منظر

رواں سال پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے تھے۔ بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔

23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں