معصوم زینب کے قاتل عمران کو چار بار سزائے موت کا حکم

معصوم زینب کے قاتل عمران کو چار بار سزائے موت کا حکم

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی ننھی زینب کے قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے کیس کا فیصلہ سنایا۔


واضح رہے کہ اے ٹی سی نے جمعرات کوزینب قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھااور پوری قوم کی نظریں کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قائم خصوصی عدالت پر لگی تھیں۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمران کوزینب کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم سنا دیااور دفعہ 7اے ٹی اے کے تحت سزائے موت اور 10 لاکھ  روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہےجبکہ لاش کو گندگی میں چھپانے پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزاسنا ئی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج سجاد احمد نے 4 روز تک مسلسل کئی کئی گھنٹے کیس کی سماعت کے بعد جمعرات کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنادیا گیا۔ کیس کا ٹرائل کوٹ لکھپت جیل میں کیا گیا اور فیصلہ بھی جیل کے اندر ہی سنایا گیا۔ فیصلہ سننے کے لیے زینب کے والد محمد امین بھی کوٹ لکھپت جیل میں موجود تھے۔

معصوم زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے بعد زینب کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ عمران کو سرِ عام پھانسی دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ مجرم عمران جہاں سے زینب کو اغوا  کیا گیا تھا وہیں پر اسے سر عام پھانسی دی جائے جبکہ زینب کے چچا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھائی سے بات ہوئی ہے اور وہ اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قصور میں 7 سالہ بچی زینب کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہونے پر ملزم عمران علی کو گرفتار کیا گیا جس نے زینب کے علاوہ دیگر 7 بچیوں کو بھی زیادتی اور قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ زینب کیس ملک کے ہائی پروفائل مقدمات میں سے ایک بن چکا ہے۔