بنگلہ دیش میں سات افراد کے قتل کے الزام میں 26افراد کو سزائے موت کا حکم

ڈحاکہ: بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سیاسی محرکات کی بنیاد پر سات افراد کو قتل کرنے کے جرم میں 26افراد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ ملزمان میں ملک کی ایلیٹ یونٹ کے تین پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ 2014میں پیش آیا تھا اور شہر میں سیاسی دبدبہ حاصل کرنے کی جد و جہد کے تحت متاثرین کو نارائن گنج میں کرکٹ اسٹیڈیم کے باہر سے اغوا کیا گيا تھا۔

تین دن بعد ان افراد کی لاشیں دریا میں تیرتی ہوئی ملی تھیں جن کے پیٹ چاک کیے گئے تھے۔ جن افراد کو سزا سنائی گئی ہے اس میں مقامی سیاسی رہنما نور حسین بھی شامل ہیں، جنھوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے لیے پولیس افسران کو رقم فراہم کی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ریپیڈ ایکش بٹالین جیسی اہم پولیس یونٹ کے افسران کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس بٹالین کے جن تین افسران کو سزا سنائی گئی ہے اس میں طارق سید نامی ایک افسر حکومت میں شامل ایک وزیر کے داماد ہیں۔اس کے علاوہ اس کیس میں بہت سے دیگر پولیس اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ کیس کے بعض گواہوں نے نارائن گنچ میں اپریل 2014 میں مقتول افراد کی لاشوں کو ایک بغیر نمبر والی گاڑی میں رکھتے ہوئے دیکھا تھا۔

ایک وکیل جنھوں نے اغوا کی واردات کی فلم بنائی تھی کو ان کی گاڑی سمیت پکڑا گیا تھا اور پھر دوسروں کے ساتھ ان کی بھی لاش دریا میں پائی گئیں تھی۔ جن افراد کو قتل کیا گيا تھا اس میں نور حسین کے سیاسی حریف نظرالاسلام بھی تھے جو اس وقت مقامی کاؤنسلر تھے۔

نور حسین کا تعلق عوامی لیگ سے تھا جنھیں حال ہی میں انڈيا سے بنگلہ دیش کے حوالے کیا گیا۔ انھیں پولیس کو اغوا کر نے اور قتل کرنے کے لیے رقم دینے کا قصوروار پایا گیا ہے۔ اس کیس میں جن دیگر12 افراد کو قصوروار پایا گيا ہے انھیں ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائي گئی جبکہ سات افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔