سپریم کورٹ نے وزیر اعظم سے چارالزامات کے جواب مانگ لئے، پانامہ لیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت وقفے کے بعدشروع ہوئی تو وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے آرٹیکل 248 کا استثنی نہیں مانگاصرف وہی حق مانگ رہے ہیں جو آرٹیکل 66 کے تحت حاصل ہے ۔وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وہ اس تقریر پر کیسے نا اہل ہو سکتے ہیں؟؟

اللہ شریف خاندان کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے:فواد چوہدری

تاہم سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں وزیر اعظم کے وکیل سے چارالزامات کے جواب مانگ لئے ،آ پ پر الزام ہے کہ تقریر حقائق کے مطابق نہیں،دوسرا الزام ہے کہ تقاریر میں تضاد ہے،تقاریر اور دستاویزات کے موقف میں بھی تضاد ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ والد اور بچوں کے بیانات میں بھی فرق ہے؟؟ جس پر وزیر اعظم کے وکیل نے جوب دیتے ہوئے کہا دونوں تقریر پر تضاد ہے لیکن اگر اسمبلی کی تقریر پرآرٹیکل 66 کا اطلاق ہوگا تو تضاد ختم ہوجائے گا،وزیر اعظم کی تقریر یا ان کے بچے کی بیان میں اگر کوئی تضاد ہے تو بھی وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کے وکیل سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان صاحب کیا بچے سچ بول رہے ہیں یا والد ؟ اگر تشریح کی غرض سے تقریر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خلاف ورزی نہیں ہوگی۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے  کہ صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ قوم سے کئے گئے خطاب کا بھی سوال ہے، سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل248کے تحت استثنیٰ نہیں مانگا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مخدوم علی خان آپ اصل ایشو پر فوکس کریں ¾پارلیمنٹ میں تقریر کی بنیاد پر وزیراعظم کو پراسیکیوٹ نہیں کررہے، کیس اظہار رائے کی آزادی کا نہیں جو آئین دیتا ہے، آپ حق نہیں استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔

آج صبح پاناما پیپرز لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے دسویں سماعت میں وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف پیش کیا کہ وزیر اعظم نے آئین کے آرٹیکل248کے تحت استثنیٰ نہیں مانگا ، عمران خان کے وکیل نے وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر کو بنیاد بنایا۔جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ مخدوم علی خان آپ اصل ایشو پر فوکس کریں، پارلیمنٹ میں تقریر کی بنیاد پر وزیراعظم کو پراسیکیوٹ نہیں کررہے۔مخدوم علی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت وزیر اعظم کو امور مملکت چلانے پر استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ آپ کا کیس اظہار رائے کی آزادی کا نہیں جو آئین دیتا ہے ، آپ حق نہیں استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔

1992میں شادی کے بعد والد نوازشریف کی زیر کفالت نہیں،مریم نواز

مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں مختلف مقدمات کے حوالے بھی پیش کئے۔ چوہدری ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی استثنیٰ مانگا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ظہور الٰہی کیس میں وزیراعظم نے تقریر اسمبلی میں نہیں کی تھی ،  آپ کے ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دینے سے متفق نہیں۔مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 19 اظہار رائے کا حق دیتا ہے ۔  آپ کا کیس آرٹیکل 19 کے زمرے میں نہیں آتا ، اپنے دلائل کو اپنے کیس تک محدود رکھیں, آپ حق نہیں استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت میں سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہوتی وہاں ججز کو ہٹانے کےلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ججز کے ہٹانے کا اختیار دینا غیر محفوظ ہو گا , بھارت میں بحث جاری ہے کہ ججز کے احتساب کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل بنائی جائے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مخدوم علی خان سے کہا کہ گزشتہ روز آپ نے پارلیمانی کارروائی عدالت میں چیلنج نہ کرنے کے اختیار کا ذکر کیا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ کے فلور پر تقریر اور میڈیا پر کہا کہ اپنی بات پر قائم ہیں اورعدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر ارکان کے خلاف بطور ثبوت استعمال کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانوی عدالت بھی ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ کرپشن کو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیںآئین کے آرٹیکل 68 کے تحت ججز کا کنڈکٹ بھی پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آتا۔مخدوم علی خان نے کہا کہ اسمبلی میں ججز کے کنڈکٹ پر بات ہو تو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا، مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 68 اور204 ججز کنڈکٹ پر بات کرنے سے روکتے ہیں۔

وزیر اعظم نوازشریف نے پانامہ کیس میں استثنیٰ مانگ لیا

مصنف کے بارے میں