اسلام آباد: پاکستان اسٹیل ملز کے واجبات میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے صنعتی مرکز کو 45سال کے لیے نجی کمپنی کو لیز پر دیئے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔ریونیو کی تقسیم کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹیل ملز کو لیز پر جاری کرنے کی صورت میں تقریبا 5ہزار ملازمین کو بھی نوکریوں سے فارغ کردیا جائے۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے پاکستان اسٹیل ملز کو 21.6بلین روپے میں سعودی کنسورشیئم کو بیچنے کی کوشش جون 2006میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے روک دیا تھا، جس کے بعد اسٹیل مل کی نجکاری کا معاملہ تقریبا 8سال کے لیے تعطل کا شکار رہا۔2008کے اختتام پر اسٹیل مل کا خسارہ اور واجبات 26بلین روپے تھا جو اب 415بلین روپے تک جاپہنچا ہے اور اس میں 166بلین روپے ادارے کو واجبات کی مد میں ادا کرنے ہیں۔
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں سے 85بلین روپے مختلف بیل آٹ پیکج کے لیے جاری بھی کیے جاچکے ہیں۔لی مشاورت سے یہ بات واضح ہے کہ حکومت اسٹیل مل کے 166بلین واجبات کا ذمہ اٹھائے گی اور ادارے کے 4ہزار 835ملازمین کو رضاکارانہ طور پر علیحدہ ہونے کی اسکیم کی پیش کش کرے گی ۔
لیز کے معاہدے کے تحت نئی کمپنی کو پہلے سال میں پلانٹ کی استعداد کے 25فیصد کام کو دوبارہ شروع کرنا ہوگا، دوسرے سال 50فیصد اور اس کے کے بعد پیداوار کو 85تک لے جانا ہوگا۔اگر نجی کمپنی دو سال میں 50فیصد اور تین سے پانچ سال میں 85فیصد گنجائش کا کام نہیں کرپاتی تو حکومت کے پاس اس بات کا اختیار موجود رہے گا کہ وہ سرمایہ کار کی بینک گارنٹی کو ان کیش کرسکیں۔
ایک اندازے کے مطابق موجودہ اسٹاف کی تعداد 19ہزار 700کے قریب ہے جس میں سے حکومت 4ہزار 835ملازمین سے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے ذریعے کمپنی سے نکالنے کا امکان رکھتی ہیں۔