زبردستی چھینک روکنے سے حلق،کان کا پردہ اور دماغ کی نسیں پھٹ سکتی ہیں:ماہرین صحت

زبردستی چھینک روکنے سے حلق،کان کا پردہ اور دماغ کی نسیں پھٹ سکتی ہیں:ماہرین صحت

پیرس:اللہ تعالی نے انسانی نظام کو ایسا بنایا ہے کہ جس کی پیچیدگیوں کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اسی طرح چھینک آنا بھی ایک قدرتی عمل ہے اور اگر کوئی شخص چھینک کو زبردستی روکتا ہے تو اس کے انتہائی برے نقصانات سامنے آتے ہیں۔


ماہرین صحت نے ایسے افراد کے لئے انتباہ جاری کیا ہے جو کہ دانستہ طور پر چھینک کو روکتے ہیں ،ایسے افراد کو اس عمل سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ زبردستی روکی گئی چھینک سے نہ صرف آپ کا حلق اور کان کا پردہ پھٹ سکتا ہے بلکہ آپ کے دماغ کی نسیں بھی پھٹ سکتی ہیں۔

طبی ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ماحول اور اردگردموجود افراد کی وجہ سے چھینک آنے کو محسوس کرتے ہیں اور اس کو روکنے کیلئے ناک اور منہ کو بند کرلیتے ہیں جبکہ چھینک کا زور اندر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فرانسیسی طبی ماہرین نے ایک 34 سالہ شہری کی مثال دی جو انتہائی درد و سوجن اور پیچھے کی طرف سے پھٹے ہوئے حلق کیساتھ ایمرجنسی آیا اس نے چھینک کو اپنی ناک اور منہ بند کر کے روکا تھا۔

طبی ماہرین نے کہاکہ چھینک اپنے زور کی وجہ سے آپ کے پھیپھڑوں میں ہوا پھنسا کر نہ صرف پھیپھڑوں کو تباہ کر سکتی ہے بلکہ دماغ کی نالیاں بھی پھاڑ سکتی ہے۔