ایک دوسرے کے کام میں مداخلت سے نقصان ہوتا ہے ، نامزد چیف جسٹس

ایک دوسرے کے کام میں مداخلت سے نقصان ہوتا ہے ، نامزد چیف جسٹس
فوٹو فائل

 اسلام آباد: ایسا نظام لاؤں گا جس میں ادارے ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہ کریں جب ادارے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرتے ہیں تو نقصان ہوتا ہے ۔


چیف جسٹس ثاقب نثارکے اعزازمیں فل کورٹ ریفرنس سےخطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا میں ایک چارٹر آف گورننس بنانا چاہوں گا جس میں صدر ، عدالت ، انتظامیہ ، پارلیمنٹ اور فوج شامل ہو گی ۔ چارٹر آف گورننس کا مقصد ہے کہ ادارے ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہ کریں ،ماضی میں مداخلت سے ایک دوسرے کا نقصان ہوتا رہا ۔

انہوں نے کہا کہ میں بھی کچھ ڈیم بنانا چاہوں گا کیونکہ پانی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔نامزد چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ زیرالتوا مقدمات اورفیصلوں میں تاخیر پربند باندھوں گا۔ جھوٹےمقدمات اور جھوٹےگواہوں پربند باندھنا چاہوں گا۔انہوں نے کہا کہ التوا کے شکار مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کیا جانا چاہیے۔