ایرانی صدر سے ملاقات کا پہلا مقصد تناﺅ میں کمی لانا تھا:شاہ محمود قریشی

ایرانی صدر سے ملاقات کا پہلا مقصد تناﺅ میں کمی لانا تھا:شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات میں میرا پہلا مقصد تناؤمیں کمی لانا تھا۔


تفصیلات کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ تنازع پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف بھی تناؤمیں اضافہ نہیں چاہتے،انہیں اندازہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے کیا نتائج پیدا ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشیدگی میں کمی لانا ہر ایک کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے تنازعہ سے تیل کی قیمتیوں میں خلل اور بین الاقوامی معیشت بھی متاثر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائیوں کی وجہ سے بننے والے اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے اقدام اٹھانے ہوں گے۔یاد رہے گزشتہ روز امریکی سینٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن واستحکام اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک تنازع کشمیر، عالمی قوانین اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مشرق وسطی میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کے ساتھ ہے اور ہم امن کے فروغ سمیت اس میں سہولت کاری کے لیے جوبھی ممکن ہوسکا وہ کریں گے۔