کراچی،مقتول کو انصاف نہیں ملا،نقیب اللہ کے وکیل کی تیسری برسی پر گفتگو

کراچی،مقتول کو انصاف نہیں ملا،نقیب اللہ کے وکیل کی تیسری برسی پر گفتگو
سورس:   File photo

کراچی ،سابق سینیئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کی تیسری برسی منائی گئی ۔

اس موقع پر سماجی کارکن و وکیل جبران ناصر نے گرینڈ جرگے کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔

وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 30 ملزمان ہیں جن میں 7 پولیس والے اب بھی مفرور ہیں، تین سال گزر گئے 6 لوگ مفرور ہیں اور 5 پولیس والے اپنے بیان سے منحرف ہوگئے، ضلع ملیر میں انہیں افراد کو پوسٹنگ دی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں شواہد کو مٹا دیا گیا، راؤ انوار کو بری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، راؤ انوار 444 مقابلوں سے بری کرنے کی سازش ہورہی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ  ثناء اللہ عباسی کو انکوائری آفسر رکھا گیا تھا، اس آفسر کو ہٹا کر کے پی کے کا آئی جی لگایا گیا ہے، ریاست کا مقابلہ راؤ انوار سے ہے، اگر نقیب کا مقدمہ ہارے تو ریاست ہارے گی۔

 جبران ناصر کا کہنا تھا کہ مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف جیل جا سکتے ہیں لیکن راؤ انوار جیل نہیں جاسکتا ہے،  راؤ انوار کا پروٹوکول ریاست سے بڑا ہے تاہم وہ تمام پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں گے۔