سکیورٹی فورسز نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، روہنگیا مسلم خواتین

سکیورٹی فورسز نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، روہنگیا مسلم خواتین

ینگون:روہنگیا مسلم خواتین نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں اپنے اوپر ہونے والے مبینہ ظلم وستم کی داستانیں سنائی ہیں۔ راکھین صوبے میں شروع ہونے والے تشدد کے بعد پہلی مرتبہ غیر ملکی صحافیوں نے وہاں ان خواتین سے ملاقاتیں کیں۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق بین الاقوامی صحافیوں کی ایک ٹیم نے میانمار کے صوبے راکھین کا دورہ کیا۔


جہاں روہنگیا مسلمان کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی مسلم خواتین نے اپنے اوپر بیتنے والی ظلم کی مبینہ کہانیاں سنائیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان غیر ملکی صحافیوں کو سکیورٹی حصار میں متاثرہ علاقوں میں لے جایا گیا۔ مسلم روہنگیا خواتین نے ان صحافیوں کو بتایا کہ ان کے کئی رشتہ دار لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کہاکہ میانمار کی سکیورٹی فورسز ان کی املاک کو تباہ کرنے، مردوں کو ہلاک کرنے اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی مرتکب بھی ہوئی ہیں۔

ساربیدہ نامی ایک نوجوان ماں نے کہاکہ میرا بیٹا دہشت گرد نہیں ہے، پھر بھی اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایک شیرخوار کو اپنی گود میں لیے اس خاتون کا مزید کہنا تھا کہ جب اس کے چودہ سالہ بیٹے کو گرفتار کیا گیا تو وہ ایک فارم پر کام کر رہا تھا۔ دیگر کئی خواتین نے بھی کہا کہ ان کے شوہروں کو جھوٹے الزامات کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔

تاہم میانمار حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے بنگلہ دیش میں موجود ان روہنگیا مہاجرین سے انٹرویوز کے بعد کہا کہ اس کمیونٹی کی خواتین کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم نوبل امن انعام یافتہ میانمار کی جمہوری رہنما آنگ سان سوچی زیادہ تر الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں.