امریکا نے افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کر لیا

امریکا نے افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کر لیا

وائٹ ہاؤس نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حکم جاری کر دیا ہے۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 سالہ افغان جنگ میں پہلی بار امریکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات پر راضی ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حکم جاری کر دیا ہے۔

 

نیو یارک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی اعلیٰ قیادت سے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے جائیں جس کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین ، روس اور چین ہمارے مخالف ہیں:ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی اخبار کے مطابق افغانستان میں شروع ہونے والی امریکی و اتحادی جنگ کی 17 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا حکم سامنے آیا ہے اور لگتا ہے کہ 17 سالہ جنگ میں پہلی بار امریکی پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔

 

امریکی اخبار کے مطابق قبل ازیں طالبان امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر راضی تھے امریکا اس ضمن میں براہ راست مذاکرات کے بجائے افغان طالبان اور افغان حکومت کو آمنے سامنے لا کر مذاکرات کرنا چاہتا تھا لیکن طالبان افغان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے اور انہیں مذاکرات میں شامل کرنے پر راضی نہیں تھے جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔

 

یہ بھی پڑھیں: شہزادہ چارلس اور ولیم کا ٹرمپ سے ملنے سے انکار


نیو یارک ٹائمز کا مزید کہنا ہے کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کے حکم کی امریکی حکام نے تصدیق کی ہے۔ امریکی اور افغان حکام کا اتفاق ہے کہ افغان عمل میں تیزی اور افغانستان سے امریکا کے انخلا کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں براہِ راست حصہ دار بنے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں