چودھری پرویز الٰہی ۔ زیرک سیاستدان

Iftikhar Hussain Shah, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

 یہ انیس سو اسی (1980) کے عشرہ کے ابتدائی برسوں کا ذکر ہے کہ میں حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم میں بطور سیکشن آفیسر کام کرتا تھا۔ چودھری محمد ایوب ڈپٹی سیکریٹری تھے۔ بڑے کھرے اور سیدھے سادے انسان تھے، لیکن تھے غیر معمولی طور پر ذہین۔ ان کی اور میری خوب بنتی تھی اس لیے میں اکثر ان کے کمرے میں پایا جاتا تھا۔ ایک دفعہ ان کے پاس چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حسین دونوں اکٹھے آئے۔ تھوڑی دیر گپ شپ چلتی رہی۔ بعد میں چودھری ایوب سے معلوم ہوا کہ ان چودھری برادران سے چودھری ایوب کی رشتہ داری ہے۔وہ رشتہ داری کچھ یوں تھی کہ چودھری ایوب کے چھوٹے بھائی اشرف مارتھ جو کہ ایک پولیس آفیسر تھے وہ چودھری پرویز الٰہی کے بہنوئی تھے،بعد میں چودھری اشرف مارتھ ایک دہشت گردی کے واقعہ میں گوجرانوالہ میں شہید ہو گئے تھے۔ اللہ انہیں مغفرت کرے۔ اس ملاقات کے بعد چودھری ایوب مجھے کہنے لگے کہ پرویز الٰہی ابھی سیاست کے اوائل مراحل میں ہے لیکن یہ ہے بہت سمجھدار اور زیرک انسان۔ آپ دیکھیں گے کہ مستقبل میں یہ سیاست میں بڑا مقام حاصل کرے گا۔ میرے خیال میں اس وقت چودھری پرویز الٰہی ڈسٹرکٹ کونسل گجرات کے ممبر تھے۔ سیاست کی دنیا میں چودھری پرویز الٰہی کی کامیابیاں دیکھ کر مجھے چودھری ایوب مرحوم یاد آگئے۔ چو دھری ایوب ایک سی ایس پی (CSP) آفیسر تھے جو ضلع رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے تھے۔ٍوہ بظاہر ایک سادہ سے انسان تھے لیکن غیر معمولی طور پر ذہین تھے۔ ان کے خاندان کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ اشرف مارتھ کی شہادت کے کچھ ہی عرصہ بعد چودھری ایوب بھی اچانک ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے وفات پا گئے۔ ایک مختصر سے عرصہ میں ایک خاندان ہی اُجڑ کے رہ گیا۔ خیر تو بات ہو رہی تھی چودھری پرویز الٰہی کی۔ آپ سوچتے ہونگے کہ مجھے چودھری پرویز الٰہی پر لکھنے کی کیوں اور کیسے سوجھی۔ سچ بتاؤں اس کی وجہ آج کے ایک اخبار میں چھپنے والی ایک خبر بنی۔ خبر یہ تھی کہ مونس الٰہی جنہیں چند روز پہلے آبی وسائل کا وزیر بنایا گیا تھا، اپنی وزارت کا حلف نہیں اٹھا رہے کیونکہ انہیں اپنی مرضی کی وزارت نہیں دی گئی۔ان کی خواہش تھی جسے وزیراعظم کے دفتر تک بھی پہنچایا گیا کہ انہیں وفاق کی دو اہم وزارتوں یعنی پٹرولیم اور پیداوار و انڈسٹریز میں سے ایک دی جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔آپ کو یاد ہوگا کہ جب عمران خان کی وفاق اور پنجاب میں حکومت بن رہی تھی تو مسلم لیگ (ق) کو بھی حکومتی اتحاد میں شامل کیا جا رہا تھا کیونکہ حکومت بنانے کے لیے ان کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ (ق) کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا کہ وفاق میں ان کو دو وزارتیں دینے کا پیمان کیا گیا تھا۔ ایک وزارت تو مسلم لیگ (ق) کے طارق بشیر چیمہ کو دے دی گئی۔ انہیں ہاؤسنگ کی وزارت دی گئی جو کہ ایک اہم وزارت سمجھی جاتی ہے لیکن دوسری وزارت جو کہ چودھری پرویز الٰہی کے فرزند مونس الٰہی کو دی جانی تھی اس کا معاملہ لٹکا رہا،جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ق) کی قیادت آزردہ خاطر رہی اور گلے شکوے چلتے رہے۔ چودھری پرویز الٰہی پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر بھی بن گئے اور ابھی تک ہیں 

جو کہ کسی بھی صو بہ میں ایک اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔آپ نے دیکھا ہو گاکہ سینٹ کے الیکشن میں چودھری پرویز الٰہی نے نہایت اہم رول ادا کیا اور صوبہ پنجاب میں تمام سیاسی پارٹیوں کی منشا اور رضا مندی سے پنجاب کی تمام سیٹوں پر سینیٹرز بلا مقابلہ چن لیے گئے۔ اپنی اچھی حکمت عملی سے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی اسمبلی میں چند ممبرز ہونے کے باوجود چودھری پرویز الٰہی نے کامل علی آغا کو بھی سینیٹر بنوا لیا۔ عددی حساب سے مسلم لیگ (ق) میں سے کسی کے سینیٹر بننے کے کوئی چانسز ہی نہیں تھے۔ اب حالات دیکھیں کہ مونس الٰہی کو وزارت تو دے دی گئی ہے لیکن وہ اسے قبول نہیں کر رہے اور چاہ رہے ہیں کہ عمران خان اپنے کسی وزیر کو ہٹائیں اور مونس الٰہی کو ان کی پسند کی وزارت دیں۔ یہ چودھری پرویز الٰہی کا سیاسی تدبر اور دانشمندانہ حکمت عملی ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کی قومی اسمبلی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں عددی کمی کے باوجود اسے ایک ایسی طاقتور پوزیشن پر لا کر کھڑاکر دیا ہے کہ اب عمران خان ان کے گھر جا کر پوچھتا پھرتا ہے کہ ”بتا تیری رضا کیا ہے“۔ آپ دیکھیں گے کہ مونس الٰہی کو وفاق میں کوئی اہم اور اس کی مرضی کی وزارت دے دی جائیگی۔ یہ چودھری پرویز الٰہی کی 

کامیاب حکمت عملی ہے کہ اس وقت پنجاب میں سب سے با اثر سیاستدان وہی ہیں۔آپ کو شاید یہ مبالغہ آرائی لگے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں پرویز الٰہی صوبہ پنجاب میں عمران خان کے وسیم اکرم پلس سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی کوئی بات بھی صوبہ پنجاب میں آسانی سے ٹالی نہیں جا سکتی۔یہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی اور تدبر ہے کہ تحریک انصاف جس کی پنجاب میں حکومت ہے اس کی سیاسی پوزیشن اسی صوبہ میں کمزور ہوتی جا رہی ہے اور پرویز الٰہی کی مسلم لیگ (ق) بہتر سیاسی پوزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو آنے والے الیکشن میں واضح ہو جائیگا۔چودھری پرویز الٰہی کو اور ان کی سیاست کو میں نے کافی قربت سے دیکھا کیونکہ ان کے پانچ سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں میں نے چار سال سے زیادہ عرصہ بطور ڈی سی او کے سرکاری فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ اُن کی یہ بات آج تک افسران نہیں بھول پائے کہ جب بھی کبھی ڈی سی اوز کی میٹنگ لیتے تھے تو وہ ہر افسر کے پاس اس کی سیٹ پر جا کر اس سے مصافحہ کرتے تھے۔اب آپ ذرا ان کے سیاسی کیریئر میں ان کی کامیابیوں پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھیں۔ چودھری پرویز الٰہی کی سیاست کا آغاز ڈسٹرکٹ کونسل گجرات سے ہوا تھا۔ وہ دو مرتبہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل گجرات رہے۔وہ شریف برادران کے دور میں وزیر برائے لوکل گورنمنٹ رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں وہ پورے پانچ سال پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے اور ان کا شمار آج بھی ایک کامیاب وزیراعلیٰ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی جس میں وہ اس ملک کے ڈپٹی پرائم منسٹر رہے۔ کیا آپ کو یہ انہونی نہیں لگتی جسے پرویز الٰہی نے ہونی کر دکھایا۔کیا آپ کو یہ انہونی نہیں لگتی کہ وہ عمران خان کی حکومت میں بھی حکومت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آپ کو شاید وہ وقت بھی یاد ہوگا جب پرویز مشرف نے عمران خان کو الیکشن سے پہلے چودھری برادران کے ساتھ سیاسی اتحاد کا مشورہ دیا تھا جسے انہوں نے قابل غور بھی نہیں سمجھا تھا اور اب وہ وقت بھی آپ نے دیکھا کہ وہ چودھری شجاعت کی عیادت کے لیے ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی کی عیادت کرنا ایک اچھا فعل ہے اور اسلامی روایات کے عین مطابق ہے۔