الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کے الزامات مسترد کر دئیے، نوٹس جا ری کرنے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے شاہ محمود قریشی کے الزامات مسترد کر دئیے، نوٹس جا ری کرنے کا فیصلہ

ملتان: پنجاب کے حلقہ پی پی 217 کے ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءشاہ محمود قریشی کے دھاندلی کے الزامات مسترد کر دئیے ہیں اور ریٹرننگ آفیسر (آر او) نے انہیں نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق پی پی 217 ملتان کے ضمنی انتخابات کے دوران یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایک فیکٹری مالک نے اپنے ورکرز کے شناختی کارڈ ضبط کر لئے ہیں اور انہیں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ڈالنے کا حکم دیا ہے۔

ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے فیکٹری مالک چوہدری ذوالفقار نے تمام ورکرز کے شناختی کارڈ ضبط کر لئے اور کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ڈال کر آئیں اور شناختی کارڈ لے جائیں۔

فیکٹری ملازمین کو (ن) لیگ کی پرچی دی جارہی ہے جبکہ فیکٹری کے اندر ملازمین کو ووٹ کے عوض اضافی پیسوں کا لالچ بھی دیا جارہا ہے اور ملازمین کو زبردستی رکشوں میں بھر کر ووٹ ڈالنے لے جایا جا رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے ساتھیوں سمیت مذکورہ فیکٹری میں داخل ہونے کی کوشش کی اور الزام عائد کیا کہ فیکٹری کے اندر ٹھپے لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر او یہاں آئیں اور فیکٹری کے اندر جو ٹھپے لگائے جا رہے ہیں اس کا نوٹس لیں۔ 

دوسری جانب فیکٹری کے مالک چوہدری ذوالفقار کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے فیکٹری پر دھاوا بولا اور ان کے ساتھ مسلح گارڈ بھی تھے، فیکٹری میں کوئی پولنگ سٹیشن ہے اور نہ ہی کوئی دھاندلی ہو رہی ہے۔ 

شاہ محمود قریشی کی شکایت پر ریٹرننگ آفیسر (آر او) اور رینجرز اہلکار مذکورہ فیکٹری پہنچ گئے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے پاس ثبوت ہیں تو فراہم کریں، غلط خبریں نہ چلائی جائیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کسی فیکٹری ورکر کا شناختی کارڈ نہیں لیا گیا، غلط خبر چلوانا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی بغیر کسی اتھارٹی کے نجی مقامات میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں، انہیں نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے شاہ محمود قریشی کے الزامات کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے فیکٹری کا دورہ کیا ہے جہاں کوئی بیلٹ پیپر ہیں اور نہ ہی کوئی لوگ ملوث پائے گئے جو ٹھپے لگا رہے ہوں۔ 

ترجمان نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے مرکزی کنٹرول روم میں اب تک 13 شکایات موصول ہوئیں اور تمام شکایات کو فوری طور پر حل کر لیا گیا ہے۔ 

مصنف کے بارے میں