روایتی ہٹ دھرمی یا حالات کا رونا، کب بدلے گا پاکستانی پولیس کا نظام

روایتی ہٹ دھرمی یا حالات کا رونا، کب بدلے گا پاکستانی پولیس کا نظام

لاہور: اگر 23 سال پہلے کی پاکستان کی پولیس کی حالت اور آج کے جدید دور کی پولیس کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو واضح طور پر ایسا محسوس ہو تا ہے کہ پاکستان کی حکومتیں تو تیزی سے بدلتی رہتی ہیں لیکن پولیس کا نظام جوں کا توں ہے اس میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اگر کبھی آپ کا اتفاق کسی پولیس اسٹیشن میں جانے کا ہوا ہو اور کوئی شکایت درج کروانی ہو تو آپ کو ہی کہا جائے گا کہ باہر سے کاغذ اور قلم لیکر آئیں تاکہ آپ ہی کی رپورٹ درج کی جائے۔


اگر شکایت کنندہ تھوڑی سی پولیس کی حالت زار پر لب کشائی کر لے تو موصوف کو تھانیدار اور محرر کی جانب سے وہی الفاظ سُنا دیئے جاتے ہیں جو آج سے 25 سے 20 سال پہلے آپ کے کانوں کو سننے کو ملے ہوں گے۔ 'جناب فنڈز کی کمی ہے کیا کرے ورنہ آپ کو تکلیف نہ دیتے'۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ سرکار تو ہر پولیس اسٹیشن کیلئے سٹیشنری، گاڑیوں کے پیٹرول  اور مرمت کے لئے ہر ماہ پیسے دیتی ہے لیکن پولیس اسٹیشن کے کرتا دھرتا ہمیشہ حالات کا رونا رہتے ہیں۔

آپ میں سے بہت سوں نے پاکستان ٹیلی وژن کا مشہور زمانہ ڈرامہ دھواں ضرور دیکھا ہو گا اور اس کے کچھ ڈائیلاگ بھی شائد آپ کو یاد ہوں گے۔ اس ڈارمے میں عاشر عظیم نے (اے ایس پی) کا کردار ادا کیا تھا اور جب ان کی پوسٹنگ کسی اور علاقے میں ہوتی ہے اور وہ تھانے پہنچتے ہیں تو وہاں کے آفس کی حالت بہت ہی خراب ہوتی اور جبکہ تھانے میں ایس ایچ او سے دریافت کیا جاتا ہے تو وہ فنڈز، اسلحہ اور نفری کی کمی کا رونا رہتے ہیں۔

آج بھی اس ویڈیو کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کی پولیس کا نظام وہی کا وہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی صرف بلڈنگ اور گاڑیوں میں 'بیرونی تبدیلی' ضرور آئی ہے لیکن اس سب کے باوجود پولیس جرائم روکنے میں ناکام نظر آتی ہے جبکہ امیر اور غریب کے حوالے سے بھی پولیس نے خود ہی اپنا سسٹم وضح کر رکھا ہے۔ جہاں امیر کی تو جھٹ پٹ سُنی جاتی ہے لیکن مظلوم کے بارے میں یہ نظام 'انگور کھٹے ہیں' کے مترداف ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں