ماہرین نے ناریل کے تیل سے گریز کا مشورہ دیدیا

نیویارک : ماہرین نے صحت نے ناریل کے تیل سے گریز کرنے کا مشورہ دے دیا۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ناریل کے تیل میں زیتون کے تیل سے 6 گنا زیادہ چکنائی ہوتی ہے اس لیے اسے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

ماہرین نے ناریل کے تیل سے گریز کا مشورہ دیدیا

نیویارک : ماہرین نے صحت نے ناریل کے تیل سے گریز کرنے کا مشورہ دے دیا۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ناریل کے تیل میں زیتون کے تیل سے 6 گنا زیادہ چکنائی ہوتی ہے اس لیے اسے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔


رپورٹ کے مطابق1950 میں کی گئی تحقیقات کے بعد ماہرین نے چکنائی اور کولیسٹرول کی قسم ایل ڈی ایل کو بڑھتے ہوئے دل کے امراض کی وجہ بتایا ہے۔ایل ڈی ایل کو کولیسٹرول کی سب سے نقصان دہ قسم قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ رگوں میں پلاک بنا دیتا ہے جودل کے امراض اور اسڑوک کی وجہ بنتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ناریل کے تیل میں 82 فیصد، گوشت میں 50 فیصد اور مکھن میں 63 فیصد چکنائی ہوتی ہے۔ ناریل کے تیل کی وجہ سے کولیسٹرول لیول بڑھتا ہے جو دل کے امراض کے امکانات میں اضافہ کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چکنائی سے بھرپور چیزیں جیسے کہ تلا ہوا کھانا، میٹھا کھانا یا ناریل کے تیل کے استعمال سے بہتر ہے کہ ایسی اشیا کا استعمال کیا جائے جو کم چکنائی والی ہوں جیسے کہ مچھلی، چکن، خشک میوے، زیتون کا تیل، سبزیوں کا تیل اور کم چکنائی والے دودھ سے بنی اشیا کا استعمال کرنا چاہیے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جس کو اپنا وزن کم کرنا ہے وہ دن میں صرف 5 سے 6 فیصد تک چکنائی والی اشیا کا استعمال کریں۔جب کہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق ایک دن میں مرد کو 30 گرام سے زائد اور خواتین کو 20 گرام سے زائد چکنائی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔