طورخم سرحد پر تجارتی سرگرمیوں میں توازن آنا شروع

طورخم سرحد پر تجارتی سرگرمیوں میں توازن آنا شروع

image by facebook

لنڈی کوتل: حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2016 سے افغانستان کے ساتھ درآمدات اور برآمدات پر عائد پابندی میں نرمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طورخم سرحد سے دو طرفہ تجارت اپنا توازن حاصل کر رہی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اس وقت کشیدگی کا آغاز ہوا تھا جب پاکستان نے طورخم سرحد پر اپنی حدود میں گیٹ کی تعمیر شروع کی تھی جس کے خلاف افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت دیکھنے میں آئی تھی۔

مذکورہ واقع کے بعد سے 2015 میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر تک کی تجارت 2017 میں کم ہوکر 80 کروڑ ڈالر تک محدود ہوگئی تھی ، علاوہ ازیں پاکستان نے افغان باشندوں کی نقل و حمل پر بھی پابندی عائد کردی تھی جو مختلف وجوہات کی وجہ سے پاکستان کا سفر کرتے تھے اور صرف انہی افغانی باشندوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جاتی تھی جن کے پاسپورٹ پر باقاعدہ پاکستانی ویزا موجود ہوتا تھا۔

اسی طرح طورخم سرحد کے نزدیک رہنے والے پاکستانیوں کو افغانستان جانے کے لیے خیبر انتظامیہ کی جانب سے ایک ’روٹ پاس‘ دیا جاتا تھا جس کی مدد سے وہ اپنے کاروبار کے لیے افغانستان جاتے تھے، تاہم اب ان کارڈز کا بھی اجرا ختم کردیا گیا ہے جبکہ ان افراد کو بھی سرحد پر اپنا قومی پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے۔

ایک مقامی تاجر صابر خان کا کہنا ہے نئی پالیسی نے مقامی تاجروں، اور سامان پہنچانے والوں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کے نزدیک تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں جو دونوں مملک کے درمیان تجارت کی وجہ سے اپنا گزربسر کرتے تھے تاہم اب نئی پالیسی کی وجہ سے یہ افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مقامی تاجر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انہوں نے ابھی تک امیدیں نہیں چھوڑیں اور اس معاملے میں تمام متعلقہ پلیٹ فارمز اور حکام کے سامنے آواز اٹھائی جائے گی کہ افغانستان کے ساتھ تجارت میں کمی کے پیشِ نظر نئی سرحدی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔

تاہم مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مقامی افراد، سیاسی اور سماجی تنظیموں کی کوششوں کے بعد بلآخر کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان کے ساتھ براہِ راست دو طرفہ تجارت میں نمایاں نرمی کی جائے گی۔

بعدِ ازاں کسٹم حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ طورخم سرحد پر تجارتی مقاصد کے لیے تاجروں کو 24 گھنٹے سروس فراہم کریں، اور کلیئرنگ کے کمپوٹرآئزڈ نظام کو مزید بہتر بنائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ حکام کو یہ بھی ہدایت جاری کی گئیں کہ رات گئے افغانستان نے سامان کی کھیپ آنے کی صورت می سرحد کو دیر تک کھولا جائے، اس کے علاوہ افغانستان سے خالی آنے والی گاڑیوں کی کلیئرنس میں بھی نرمی کی جائے تاکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی کمی پر بھی قابو پایا جاسکے۔

کور کمانڈر پشاور کے اس اعلان کو مقامی تاجروں کی جانب سے ایک خوش آئند اعلان قرار دیا گیا , طورخم کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر حیات اللہ شنواری کا کہنا تھا کہ مذکورہ اعلان کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس اعلان کا نفاذ عمل میں نہیں آیا ہے۔