بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق مزید اقدامات سے باز رہے، پاکستان

بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق مزید اقدامات سے باز رہے، پاکستان
کیپشن: بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق مزید اقدامات سے باز رہے، پاکستان
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق مزید اقدامات سے باز رہے اور مزید غیر قانونی اقدامات خطے میں امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کر دیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات پر از سرنو غور کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت اور آبادی کے ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کی کوششوں کی مخالفت جاری رکھے گا اور پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں، مقبوضہ علاقے کی مزید تقسیم کے حوالے سے بھارتی میکنزم سے متعلق رپورٹس پر سخت تحفظات ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور گلوبل میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور یو این سلامتی کونسل کے قراردادوں کے سراسر منافی ہیں۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے اس تاثر کو یکسر مسترد کیا کہ بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی رہائی کیلئے کوئی قانون سازی کی جا رہی ہے ۔ پاکستان اپنی تمام عالمی زمہ داریوں کی پاسداری کرتا ہے اور یہ قانون کلبھوشن یادیو کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے عین مطابق ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان، بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کیساتھ پر امن تعلقات چاہتا ہے لیکن ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کیلئے بامعنی رابطے ضروی ہیں تاکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیحہ طلب معاملات کو حل کیا جا سکے۔

بھارت میں یورینیم کی غیر قانونی فروخت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ نئی دہلی کو اپنے جوہری مواد کی سیکورٹی کو مستحکم کرنے کیلئے موثر اور مناسب اقدامات اٹھانا ہونگے۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی زمہ داریوں کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کیلئے پرعزم ہے۔