بولو تارا را : پنجاب اسمبلی سے ایوان اقبال تک…

بولو تارا را : پنجاب اسمبلی سے ایوان اقبال تک…

"بولو تارارا" پاپولر سکھ گلوکار دلیر مہدی کے مشہور  گانے کے بول ہیں اپنے دور میں اس گانے نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی تھی۔ اس گانے کے بول کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ ہمارے دوست اور سینئر صحافی عامر متین جو اس وقت انگریزی اخبار دی نیشن سے وابستہ تھے نے 1998 کو رفیق تارڑ مرحوم کو صدر مملکت منتخب ہونے پر اس کو اپنی پریس گیلری کے عنوان کے طور پر منتخب کیا تھا۔ اس پریس گیلری میں انہوں نے ساری رام کہانی بتائی کہ کس طرح رفیق تارڑ عہدہ صدارت تک پہنچے۔ دوسرے  پنجاب کی تاریخ اور اپنی صحافتی زندگی میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کے دو اجلاس مختلف مقامات پر ایک ہی دن ہوتے دیکھے اور اپنی بے بسی اور اس انہونی پر بے اختیار اس گانے کے اگلے بول ’’ہائے او ربا ہائے او ربا‘‘ گنگنانے کو جی چاہنے لگا۔ 

رفیق تارڑ کی یاد ان کے پوتے عطا تارڑ کے حوالے سے آئی۔رفیق تارڑ مرحوم نے 1998 میں صدر مملکت کا حلف اٹھایا تو یہ منصب ایسے ہی نہیں مل گیا بڑے پاپڑ بیلنا پڑے۔ یہ منصب انہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کے کوئٹہ بنچ کی طرف سے اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف فیصلہ دینے کے انعام کے طور پر دیا گیا۔ رفیق تارڑ کی اس حرکت کو پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھا گیا اور کئی لکھاریوں نے اس کو ’’واہیات حرکت‘‘  لکھا۔ بلکہ حقیقی معنوں میں رفیق تارڑ نے یہ سب کچھ کر کے ہمارے نظام انصاف کو بھی "Middle Fingure" دکھا دی تھی۔ لیکن حسب معمول اس وقت کے حکومتی اتحادیوں نے اس اقدام کو سراہا اور اس وقت کے وزیر اطلاعات مشاہد حسین نے اسی دن نواز شریف کو جبکہ وہ موٹروے کا افتتاح کر رہے تھے کے دوران ان کو یہ خبر سنائی کہ میاں صاحب  ’’رفیق تارڑ  صاحب نے پھٹے چک دتے نیں‘‘۔  ہم بھی حیران تھے کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا لیکن مشاہد حسین سے چونکہ ذاتی تعلق بھی تھا اس لیے انہوں نے کہا فکر نہ کرو "More to come" اور اس کے بعد انعام کو طور پر انہیں صدر پاکستان بنا دیا گیا اور جون 2001 میں انہوں نے ازخود استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت کی اپوزیشن لیڈر بے نظیر شہید نے بھی نواز شریف کی اس حرکت پر بے حد 

تنقید کی اور رفیق تارڑ کو بطور جج سپریم کورٹ اپنی حکومت کے خاتمے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ نواز شریف کی طرف سے رفیق تارڑ کو کوئٹہ بنچ بھجوانے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف فیصلہ کرنے پر بھی مورد الزام ٹھہرایا اور اسے "dirty move"  قرار دیا۔  

اس واقعہ کے 24 سال بعد رفیق تارڑ کا ذکر ایک بار پھر آ گیا جب ان کی اگلی نسل کے نمائندے عطا تارڑ نے پنجاب   اسمبلی کے منتخب ایوان میں اپنے جد کی طرح  پارلیمانی نظام کو بھی سرعام "Middle Fingure" دکھا کر ثابت کر دیا کہ وہ نسلی ہے دوسرے اس نظام کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے۔ حسب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت پوری مسلم لیگ ن ان کے دفاع میں آن کھڑی ہوئی اور کسی نے بھی ان کی ’’انگلی‘‘ والی حرکت کی مذمت نہیں کی۔ گو کہ عطا تارڑ نے بعد ازاں معذرت کی اور اپنی ’’انگلی‘‘ واپس لے لی لیکن یہ بھول گئے کہ جو "Middle Fingure" انہوں نے منتخب ایوان میں دکھائی اس کا رخ تا حیات ان ہی کی طرف رہے گا اور اس سے وہ پیچھا نہیں چھڑا سکتے بالکل جس طرح رفیق تارڑ کے ماتھے پر کوئٹہ بنچ کا فیصلہ کلنک کے ٹیکے کی طرح چپکا رہے گا۔   

یہ بھی حقیقت ہے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے عطا تارڑ کو اسمبلی سے نکال کر انصاف سے کام نہیں لیا۔ ماضی میں کئی اشخاص کے علاوہ حال میں ہی بابر اعوان، شہزاد  اکبر اور موجودہ وفاقی حکومت میں مفتاح اسماعیل ایک بار پھر بغیر منتخب ہوئے قومی اسمبلی و سینیٹ میں بیٹھ سکتے ہیں تو عطا تارڑ  کیوں نہیں۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 91 اور  130/9 اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حکومت کسی بھی شخص کو 6 ماہ تک وزیر مقرر کر سکتی ہے تاوقتیکہ وہ اس عرصہ میں مذکوروہ اسمبلی کا ممبر منتخب نہ ہو جائے۔ اس آئینی تشریح کے اپنے صحافی دوست سعید چودھری کے مشکور ہیں جن سے گاہے بگاہے معلومات لیتے رہتے ہیں اور بے شک وہ آئینی اور قانونی معاملات پر انسا ئیکلوپیڈیا ہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عطا تارڑ سے یہ امتیازی سلوک کیوں۔ کیا چودھری پرویز الٰہی کے قانونی مشیروں کا اس کا علم نہیں؟  

دوسرے ’’ بولو تارا را‘‘ کے بعد اپنی 40 سالہ صحافتی زندگی میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کو انا کی بھینٹ چڑھتے دیکھا۔ ایک ہی شہر میں دو سڑکوں کے بیچ پنجاب اسمبلی کے دو اجلاس ہوتے دیکھے۔ ایک نیب زدہ گورنر بلیغ ارحمان نے ضد میں آکر ایوان اقبال میں بلوایا اور دوسرا اجلاس پنجاب اسمبلی میں انا کے مارے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں بلوایا۔ میں نے دونو اجلاسوں میں بطور صحافی شرکت کی۔ یقین جانیے دونوں اجلاس پھیکے پھیکے لگے ایک میں حکومت نہ تھی اور دوسرے میں اپوزیشن۔ حمزہ شہباز شریف نے ضد میں آکر ایوان اقبال میں  اجلاس تو بلالیا لیکن انتظامات صفر تھے۔ 50 ڈگری کی گرمی میں ائیر کنڈیشنڈ نہ ہونے کے برابر تھے بجٹ پیش کرنے والے اویس لغاری اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتھے پر پسینے کے قطرے صاف دیکھے جا سکتے تھے۔ پریس گیلری کے یار لوگوں اس پسینے کو اور طرح تشبیہ دی لیکن میں نے ان سے متفق نہ ہونے کا حق استعمال کیا۔ جہاں جہاں نظر پڑ رہی تھی اراکین اسمبلی بھی پسینے کے قطرے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پریس گیلری میں تو حالات بہت برے تھے میری طرح کے اکثر صحافی پسینے سے شرابور تھے لیکن رزق کو حلال کرنے کے لیے یہ سب کچھ جھیلنے پر مجبور تھے۔  جب پنجاب کی بیوروکریسی کے اعلیٰ افسر مجھے دیکھتے ہی گلے ملنے لگے تو میں پسینے میں شرابور ہونے کے باوجود ان سے گلے ملا۔ حیرت ہوئی کہ وہ بھی پسینے میں لبریز تھے۔ میں نے پوچھا کم از کم اے سی ہی صحیح لگا دیتے کہنے لگے جن کے ذمہ تھا وہ گرمی اور اے سی کی ضرورت کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے۔ میں نے کہا کہ اگر شہباز شریف ہوتے تمام انتظام کرنے والے معطل ہوتے۔  اس پر وہ کھسک لیے کہ کہیں انکی شامت نہ آجائے۔ 

یقیناً پنجاب اسمبلی سے ایوان اقبال تک پنجاب اسمبلی کے دو اجلاس کرانے والے ہی بتا سکتے ہیں کہ کون سا اجلاس حلالی تھا  اور کون سا ناجائز۔ لیکن اس سب سے نام بدنام ہوا ہے پنجاب کے قانون سازوں کا اور مسلم لیگ ن و قاف ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی انا کی سیاست کا کہ ان کی ضد نے پنجاب کا سر جھکا دیا۔ آخر میں اس گانے کے اگلے بول ’’ہائے او ربا ہائے او ربا‘‘ دھرانے کو دل کرتا ہے کہ رب ہی ان کو کوئی عقل مت دے تاکہ یہ انا کی ضد سے باہر آئیں۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے وٹس ایپ 03004741474 پر بھیجیں۔

مصنف کے بارے میں