لاہور قلندرز نے عمر اکمل کی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

ٹوئٹر فوٹو

شارجہ:پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے اپنے سٹار بلے باز عمر اکمل کی کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے زیر گردش خبروں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پر خبریں زیر گردش تھیں کہ عمر اکمل کو لاہور قلندرز کی ٹیم کچھ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے فائنل الیون کا حصہ نہیں بنا رہی اور ان کے حوالے ٹیم مینجمنٹ تمام تر معلومات کا انکشاف ٹورنامنٹ ختم ہونے کے بعد کرے گی تاکہ ایونٹ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

تاہم گزشتہ رات لاہور قلندرز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اس قسم کی تمام تر افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لاہور قلندرز کی ٹیم مینجمنٹ عمر اکمل کے حوالے سے سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی تمام تر افواہوں کو مسترد کرتی ہے۔گزشتہ دو سیزن میں بدترین ناکامی کے بعد یہ سیزن بھی لاہور قلندرز کیلئے کچھ اچھا ثابت نہ ہو سکا اور وہ اپنے ابتدائی چھ میچ ہار کر سب سے پہلے ایونٹ سے باہر ہوئے لیکن اس کے بعد ٹیم نے یکے بعد دیگرے اپنے تینوں میچوں میں فتح حاصل کی۔

عمر اکمل ان میچوں میں بری طرح ناکام رہے اور پانچ میچوں میں صرف 58 رنز ہی بنا سکے جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے انہیں باہر بٹھانے کا فیصلہ کیا اور عمر اکمل کی غر موجودگی میں ٹیم چار میں سے تین میچز جیتنے میں کامیاب رہی۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق عمر اکمل کو ان کی ناقص فارم اور خراب رویے کی وجہ سے ٹیم سے باہر بٹھایا گیا۔ عمر اکمل گزشتہ تین میچوں سے ٹیم کے ساتھ سفر نہیں کر رہے اور کرک انفو کے مطابق پاکستانی بلے باز قلندرز کے کپتان برینڈن میک کولم کے بیان سے خوش نہیں جنہوں نے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

میک کولم نے کہا تھا کہ عمر اکمل ایک مشکل لڑکا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ان کا کیریئر مشکلات سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن ان میں بہت صلاحیت ہے اور انہوں نے اپنے کیریئر میں چند اچھی اننگز کھیلی ہیں۔ اگر ان کا کیریئر وقت سے پہلے ختم ہوتا ہے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ انہوں نے قابلیت سے کم حاصل کیا۔

اگر عمر اکمل کی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے خبریں غلط بھی ہیں تو بھی لاہور قلندرز کے کیمپ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ذرائع کے مطابق ٹیم کے فیلڈنگ کوچ عتیق الزمان اور بالنگ کوچ کبیر خان بھی چند میچز سے ٹیم کے ہمراہ سفر نہیں کر رہے لیکن قلندرز کے آفیشلز نے اس حوالے سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوچز پیچھے رہ کر ریزرو کھلاڑیوں کی تربیت کر رہے ہیں۔