بھارتی یونیورسٹی میں مکیش امبانی کی اہلیہ کی تقرری پر طلباء سراپا احتجاج

بھارتی یونیورسٹی میں مکیش امبانی کی اہلیہ کی تقرری پر طلباء سراپا احتجاج
سورس:   File photo

نئی دہلی ،بھارتی یونیورسٹی میں معروف بزنس مین کی اہلیہ کی بطور پروفیسرتعیناتی پر طلباء کا احتجاج 

میڈیا رپورٹس کے مطابق بنارس ہندویونیورسٹی کے طلباء معروف بزنس مین مکیش امبانی کی اہلیہ انیتا امبانی کی بطور وزیٹنگ لیکچرار تعیناتی پر سراپا احتجاج بن گئے ۔ 

چالیس سے زائد طلباء کے ایک گروہ نے یونیورسٹی کے چانسلر کے گھر کے باہر احتجاج  کیا اور کہا کہ مکیش امبانی کی اہلیہ کی بطور وزٹنگ پروفیسر تعیناتی ناقابل قبول ہے ۔ احتجاج کرنے والے طلباء کا موقف تھاکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کی طرف سے انیتا امبانی کو وزیٹنگ لیکچرار کے طورپرکوئی خط نہیں لکھا گیا ۔ان کی تعیناتی زبانی طورپر کی گئی ہے ۔

طلباء کا مطالبہ تھا کہ انیتا امبانی کی جگہ پر ارونیما سنہا ، بیچندری پال ، میری کون  یا کرن بیدی میں سے کسی کو تعینات کیا جائے جنہوں نے خواتین کی ترقی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق انیتاامبانی کی تعیناتی کے لئے بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ سوشل سائنسز کی طرف سے ریلائنس  گروپ آف انڈسٹریز کو خط لکھا گیا ۔انیتا امبانی ریلائنس گروپ کی بانی اور چیئرپرسن ہیں ۔ 

مقامی اخبار کا دعویٰ ہے کہ وزیٹنگ پروفیسر کے لئے معروف انڈسٹریلسٹ گوتم ایڈانی کی اہلیہ پریتی ایڈانی جبکہ لوہے کی مصنوعات بنانے کے لئے مشہور لکشمی متل کی اہلیہ اوشامتل کا نام بھی لیا جارہاتھا ۔جبکہ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ابھی تک یونیورسٹی کی طرف سے انیتاامبانی کو کوئی لیٹر موصول نہیں ہوا ۔ 

یونیورسٹی کے چانسلر کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی کی اہلیہ کو خواتین سٹڈی سنٹر جوائن کرنے کا باقاعدہ خط لکھا گیا ہے کیونکہ  خواتین کی ترقی میں رئلائنس فاؤنڈیشن کا بہت اہم کردار رہا ہے اور وہ اس کی چیئرمین ہیں ۔