تمام پاکستانیوں کے لئے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق معلومات کی فراہمی ضروری نہیں، ایس ای سی پی

تمام پاکستانیوں کے لئے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق معلومات کی فراہمی ضروری نہیں، ایس ای سی پی

اسلام آباد:  سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے وضاحت کی ہے کہ نئے مجوزہ کمپنیز بل میں صرف ایسے پاکستانیوں کو ملک سے باہر رجسٹرڈ کمپنی میں ان کی شئیر ہولڈنگ کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی جو کہ پاکستان میں رجسٹرڈ کسی کمپنی میں دس فیصد یا اس سے زائد حصص کی ملکیت رکھتے ہوں یا ایسی کسی کمپنی میں ڈائریکٹر یا اس میں کسی عہدے پر فائز ہوں۔


ایسے افراد چاہے وہ ملک کے اندر مقیم ہوں یا ملک سے باہرانہیں مجوزہ قانون کی شق نمبر 452 کے مطابق معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ مجوزہ قانون کے مطابق صرف اور صرف ان افراد کو جو پاکستان میں رجسٹرڈ کسی کمپنی میں دس فیصد سے زائد حصص یا کوئی عہدہ رکھتے ہوں بیرون ملک کسی کمپنی میں ان کی شئیر ہولڈنگ کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی نہ کہ اثاثہ جات کی تفصیلات۔

ایس ای سی پی، کچھ اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی وضاحت کرتا ہے کہ مجوزہ کمپنیز  بل کے مطابق پاکستان سے باہر مقیم ہر  پاکستانی کو اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کروانا ہوں گے۔ یہ بات اس قانون میں تجویز کی گئی شقوں کے با کل بر عکس اور گمراہ گن ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source