محکمہ صحت کے ملازمین کا بڑا سکینڈل، پیسے لے کر کورونا ویکسین لگانے لگے

A big scandal of health department employees, they started taking corona vaccine with money
کیپشن:   فائل فوٹو

لاہور: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب 30 سال کے افراد کی ویکسی نیشن کرنے کا اعلان ہی نہیں کیا گیا لیکن محکمہ صحت کے ملازمین نے پیسے لے کر ایسے افراد کی ویکسینیشن کردی۔

حکام نے نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت نے 18 ملازمین کو معطل کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے معطل کیے جانے والے 18 ملازمین پی کے ایل آئی میں تعینات تھے یہاں پر انہوں نے 30 سال سے کم افراد کی پیسے لے کر ویکسی نیشن کی۔

انکوائری میں الزام ثابت ہونے پر تمام ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں نواز جوہن، سجاد علی، محمد تنویر، بابر علی، کرامت علی، امجد علی، تیمور فیاض، محمد یوسف، فقیر حسین، کاشف مسیح، محمد اکرام، محمد اسامہ، بشرا فرمان، ابیر شہزادی، امتیاز علی، اقصیٰ شاہد، شہزاد حسین اور اللہ وسایا شامل ہیں۔ معطل ہونے والے تمام ملازمین اپنے دفاتر میں رپورٹ کریں گے۔

ادھر گزشتہ روز پاکستان کے دیرینہ دوست چین نے عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی مزید بارہ لاکھ ڈوزز خصوصی طیارے کے ذریعے پہنچا دی ہیں جبکہ اگلے ماہ مزید خوراکیں بھی آئیں گی۔

حکومت اور طبی ماہرین کی جانب سے عوام سے بار بار اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اگر اس موذی مرض کے وار سے بچنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ فوری طور پر ویکسین لگوائیں۔

دوسری جانب گزشتہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار دو سو بتیس مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اس وائرس میں مبتلا 74 مزید افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 68223 ہو گئی ہے۔