عقدہ اورعقیدہ

عقدہ اورعقیدہ

اِسلام پراستقامت کا ’’عقدہ‘‘ درست ’’عقیدہ‘‘ میں پنہاں ہے۔ مسلمان مرد اور عورت آپس میں ’’عقد‘‘ کیلئے ایک دوسرے کا ’’عقیدہ‘‘ ضروردیکھتے ہیں۔یادرکھیں "استعداد" کا"تعداد" سے کوئی موازنہ نہیں ،جس انسان کاکوئی نظریہ نہیں وہ نظر ہوتے ہوئے بھی بینائی سے محروم ہے۔ ہم میں سے جس کسی کی نیت اور نظریہ درست نہیں اس کے اعمال زندگی بھر کاوبال بن جاتے ہیں۔ جو انسان"دوراندیش" نہ ہو وہ "درویش "نہیں ہوسکتا۔میدان کربلا میں صالحین اورمنافقین کے درمیان تاریخی معر کے نے دنیا کودو دھڑوں حسینیت ؑاوریزیدیت میں تقسیم کردیا۔اسلامیت اور حسینیت کاعلمبردار ایک سچامسلمان اوربااصول انسان" نیوٹرل" نہیں ہو سکتا، نتائج کی پروا کئے بغیرجوحق پرہو اس کاساتھ دینا ہوتا ہے ۔مادروطن پاکستان کی داخلی خودمختاری، وحدت ،سا  لمیت، قومی حمیت اورقومی خودداری کاکوئی حامی اندرونی وبیرونی دشمنوں کے مقابل نیوٹرل ہونے کاتصور بھی نہیں کرسکتا ۔ جس گھرمیں باری باری اورکئی باری چوری کرنے کے بعد سبھی پیشہ ور چورایک ساتھ نقب لگارہے ہوں وہاں کوئی فرض شناس چوکیداردورکھڑا رہ کرچوروں کے ہنرکانظارہ نہیں کر سکتا ۔ کسی فرمانبردارفرزندکے ہوتے ہوئے کوئی محلے داریارشتہ دارعورت اس کی زخمی یابیمار ماں پر حملے کی جسارت کربیٹھے توکیا وہ نیوٹرل رہ سکتا ہے۔سٹیک ہولڈریعنی ریاستی اداروں کی مجرمانہ غفلت یاملی بھگت کے بغیر کسی ریاست کی باگ ڈور چوروں کے ہاتھوں میں نہیں جاسکتی ۔ معاشی طورپرنحیف پاکستان مزید حملوں ، زخموں اورکاٹ دار جملوں کامتحمل نہیں ہوسکتا ، نیب زدگان کس بنیاد پرنیب میں اصلاحات کامژداسنارہے ہیں۔قومی وسائل اور دوسروں کامینڈیٹ چوری کرنیوالے احتساب اورانتخاب کے شعبہ جات میں اصلاحات نہیں کرسکتے،پاکستان میں فوری اورمنصفانہ الیکشن کے سوا کوئی آپشن نہیں۔حدیث نبویؐ کا مفہوم ہے ، "دنیا میںجس کے ساتھ تمہاری محبت ہوگی قیامت میں اسی کاساتھ ملے گا" ۔آج دنیا میں جوقومی چوروں کے ساتھ محبت کادم بھرتے ہیں روزمحشر انہیں کے ساتھ ہوں گے، وہ "ہم چور ہیں نہ چور کے بھائی"محاورہ یادرکھیں ۔ چوروں سے نفرت مہذب معاشروں کی اجتماعی فطرت ہے۔

عزت قیمت یا قسمت نہیں قدرت کی رحمت سے ملتی ہے۔قادروکارسازاللہ ربّ العزت کو عزت اورذلت پرقدرت حاصل ہے، معبودبرحق چاہے تواقتدار چھین کرعزت سے نوازدے اورچاہے تو حکمران بناتے ہوئے عزت سے محروم کردے ،آپ اِن دِنوں پاکستان میںپاک پروردگار کی قدرت کامظاہرہ دیکھ رہے ہیں ۔ مسنداقتدار پرکون براجمان ہے جبکہ حکومت سے محرومی کے بعد عزت اورہم وطنوں کی محبت کس کوملی یہ سمجھنا ہرگزدشوار نہیں۔ عزت اورشہرت میںزمین آسمان کا فرق ہے، عزت وعقیدت سے عاری شہرت نحوست اورلعنت کی علامت ہے لہٰذا شخصیات کو شہرت یامنصب نہیں بلکہ عزت کی بنیادپراپنا ہیرواورآئیڈیل بنایا کریں۔دوسروں کوعزت دیں تو عزت ملتی ہے ،جوعزت دار ہووہ دوسروں کوعزت د ینے کے معاملے میں بخیل نہیں ہوتا ۔عزت منصب یااقتدار نہیں کردار کی بنیاد پرملتی ہے۔عزت کامعیارجانچنا ہوتو بابائے قوم محمدعلی جناح ؒ ، ماضی کے باکسر محمدعلیؒ ، ڈاکٹر مہاتیر بن محمد، رجب طیب ایردوان، غازی علم دینؒ،غازی ممتازقادری ؒ، عبدالستار ایدھیؒ، نواب غوث بخش باروزئی،لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی،لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل، لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور،بریگیڈئیر غضنفر علی،آئی جی( ریٹائرڈ) پنجاب حاجی محمدحبیب الرحمن ،ڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ کے روح رواں شوکت بابر ورک اورپروفیشنل ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کے چہرے تخیل میں ابھرتے ہیں جبکہ شہرت تو ڈونلڈ ٹرمپ، نریندر مودی اورابھی نندن کی دہلیز پر بھی سجدہ ریز ہے۔پاکستان میں جوبائیڈن اور مودی کے بھگت بھی بہت مشہور لیکن وہ عزت سے محروم ہیں۔جو عناصر جوبائیڈ ن اورنریندری مودی کے" مقرب" ہوں گے" کر ب" ان کامقدر بن جائے گا۔ 

قومی ٹیم کاکپتان قوم کاکپتان بن گیا،عمران خان نے اپنے مینڈیٹ میں نقب لگانیوالے کردار وں کے چہروں سے نقاب اتاردیا، تاہم اندرون ملک مزید محاذ کھولناریاست اور ان کی سیاست کیلئے سودمند نہیں، اسے" تولنا "پھر "بولنا" ہوگا۔ہرکسی سے بگاڑنا کپتان کے سیاسی مستقبل کاحلیہ بگاڑسکتا ہے۔اندرونی و بیرونی  سازش کے نتیجہ میں کپتا ن سے اقتدار توچھن گیا لیکن اوورسیزپاکستانیوں سمیت ہم وطنوں سے جو عزت اُسے ملی وہ کوئی نہیں چھین سکتا ۔پاکستان اورکپتان کے حامیوں نے امریکا کی غلامی مسترد کرتے، بیڑیاں توڑتے اورکشتیاں جلاتے ہوئے قومی خودداری کیلئے کٹھن جدوجہد کاآغاز کردیا ہے جبکہ ابوبکر سے پرجوش نوجوان اس تحریک کاہراول دستہ ہیں۔پاکستان کے عوام اپنے کپتان پردعائوں اوروفائوں کے پھول نچھاورکررہے ہیں جبکہ دوسرے کیمپ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔کپتان کی ایوان اقتدار سے بیدخلی میں افواج پاکستان کاکوئی کردار نہیں۔پاکستانیوں کوپاک فوج سے شکوہ نہیں ، وہ تونیب زدگان اوران کے پشت بان سے  بیزار ہیں ۔مخصوص عناصر کی طرف سے پاک فوج پرتنقیدکاتاثر درست نہیں ، پاک فوج آج بھی پاکستانیوں کی عقیدتوں کامحور ہے ۔پاکستان کا خیرخواہ افواج پاکستان کابدخواہ نہیں ہوسکتا۔میں نے چند گمراہ افراد کے سوا کسی کو سوشل میڈیا پر پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ پاکستان کا ہر ایک فرد پاک فوج پر جان چھڑکتا ہے ۔ ہزاروں شہیدوں کی وارث پاک فوج پاکستان کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہے،اسے سیاست میں کوئی دلچسپی نہیںاوران شاء اللہ ہمارے جانبازوں کے ہوتے ہوئے ہماری داخلی خودمختاری اورقومی خودداری پرآنچ نہیں آسکتی ۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں آصف زرداری کا خبث باطن پاکستانیوںنے مسترد کردیاہے ۔پاک فوج کاڈسپلن اس کاطر ہّ امتیاز ہے،پاکستان کے عوام آج بھی افواج پاکستان کی پشت پرکھڑے ہیں ۔پاکستان کے مخصوص اورمنحوس سیاستدانوں کا اپنی غلطیوں،ناکامیوں اورباہمی عداوتوں کاملبہ افواج پاکستان پرڈالناقابل مذمت ہے۔ 

کپتان کوپاکستان میں معاشی وزرعی انقلاب اورقومی چوروں کابے رحم احتساب یقینی بنانے کیلئے چاروں صوبوں سے ماہرین اورصالحین کی ٹیم بناناہوگی۔عمران خان کوسنجیدہ سیاست کیلئے بینا اور دانا مشیروں کی ضرورت ہے۔عمران خان کوآئندہ "چنائو "میں بھرپورکامیابی کیلئے اپنے الفاظ کادرست "چنائو "یقینی بناناہوگا۔

مصنف کے بارے میں