شدید گرم موسم، گرما گرم سیاست اور بدترین لوڈ شیڈنگ !

شدید گرم موسم، گرما گرم سیاست اور بدترین لوڈ شیڈنگ !

اللہ خیر کرے اس ملک پر مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اور یہ مسائل خارجہ پالیسی یا داخلہ پالیسی سے متعلق نہیں بلکہ براہ راست عوام سے تعلق رکھتے ہیں، ڈالر مہنگا ہو، بجلی مہنگی ہو، پٹرول مہنگا ہو ، گیس مہنگی ہو، گیس لوڈ شیڈنگ ہو یا بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ پستے عوام ہی ہیں… جوتے عوام کو ہی پڑتے ہیں… رونا عوام کو ہی پڑتا ہے… مرنا عوام کو ہی پڑتا ہے اوراگر زندہ رہے تو خوار بھی عوام کو ہی ہونا پڑتا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ کا عوام سے شاید کوئی لینا دینا نہیں رہ گیا، وہ پاکستان صرف کاروبار کرنے آتے ہیں پھر دوبارہ مغربی ممالک میں چلے جاتے ہیں۔ اس کا ثبوت آپ کبھی خود بھی دیکھ لیں کہ جب کبھی پاکستان میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو بہت سے ’’بریف کیس ‘‘ والے بابو آپ کو اسلام آباد کے ایوانوں میں گھومتے پھرتے نظر آئیں گے۔ خیر میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ حکومتیں جتنی مرضی تبدیل ہو جائیں مگر مجال ہے کہ کوئی عوام کا احساس کرے۔ جیسے 2018ء میں ایک حکومت گئی دوسری آئی، پھر ابھی گزشتہ ماہ وہی حکومت گئی اور پھر اگلی حکومت آگئی۔ کیا کوئی بتائے گا کہ ان تبدیلیوں سے عوام کو کوئی فرق پڑا؟ یا آنے والی متوقع تبدیلیوں سے عوام کو کیا فرق پڑنے والا ہے؟ وہ تو بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ ان سارے مسائل کو ایک طرف رکھیں صرف لوڈ شیڈنگ ہی کو لے لیں عوام کا جینا دو بھر ہوگیا ہے۔ ایک تو شدید گرم موسم ، اوپر سے ملک بھر میں طویل لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ کئی شہروں میں 4سے6گھنٹے اور دیہاتوں میں 8 سے 12 گھنٹے تک بجلی کی بندش اب معمول بن چکی ہے۔جس سے فیکٹریوں اور ملو ں میں کام ٹھپ ہونے سے مزدوروں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

الغرض بجلی کی اعلانیہ، غیر علانیہ بندش نے شہریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے، لوڈ شیڈنگ سے بچے، خواتین، بزرگ اور بیمار سب پریشان ہیں۔اگر ہم لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی پاکستان میں کھپت کے حوالے سے تاریخ پر روشنی ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ہم نے بجلی اور گیس کے بے دریغ استعمال سے کس قدر ان چیزوں کے ہم محتاج ہو چکے ہیں۔اور یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ برس ہا برس پرانا ہے۔ خیر ماضی کی بات کریں تو قیامِ پاکستان یعنی 1947 میں پاکستان کی مجموعی بجلی کی پیداوار کل 60 میگاواٹ تھی ، آج وہی ملک 25 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔پاکستان میں توانائی کے حصول کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں ان میں کوئلہ ، ہائیڈل، فاسل فیول ( تیل اور گیس)، سولر ، نیوکلیئر اور ونڈ شامل ہیں۔ ان میں بھی سب سے بڑا حصہ فاسل فیول سے چلنے والے پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے۔ توانائی کی مجموعی پیداوار میں فاسل فیول کا حصہ 64.2 فیصد ہے ، جبکہ ہائیڈل 29 فیصد، اور نیوکلیئر 5.8 فیصد ہیں۔ فاسل فیول کی شرح کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور 64.2 فیصد میں سے 35.2 فیصد تیل سے اور 29 فیصد قدرتی گیس سے پیدا کیا جارہا ہے۔ 

پاکستان میں مختلف ادوار میں توانائی کے حصول کے لیے مختلف ذرائع پر انحصار کیا گیا ہے۔ 1973 تک توانائی کے حصول کے لیے پاکستان کا انحصار ہائیڈل کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس اور کوئلے پر تھا، جبکہ تیل، یورینیم اور اسی نوعیت کے دوسرے ذرائع سے بننے والی بجلی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس کے بعد حکومت نے توانائی کی ضرورت کو پوراکرنے کے لیے ملک میں تیل کی تلاش شروع کی۔ آج ملک میں انرجی سیکٹر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کل تیل کا محض 17فیصد پاکستان سے نکلتا ہے۔

ہائیڈل(یعنی پانی سے پیدا ہونے والی بجلی) انرجی کے میدان میں بے پناہ مواقع ہونے کے باوجود 1994 ، 2002 اور 2015 میں اپنائی گئی انرجی پالیسیوں میں تھرمل ذرائع سے توانائی کے حصول کو ترجیح دی گئی ہے جس کے سبب قدرتی گیس اور تیل بجلی پیدا کرنے کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر سامنے آئے ، 2015 تک تیل اور گیس سے پیدا ہونے والی بجلی ملک کی کل پیداوار کا 65 بن چکی تھی۔فاسل فیول میں قدرتی گیس کو بے پناہ اہمیت حاصل ہے، یہ نہ صرف یہ کہ بجلی بنانے میں کام آتی ہے بلکہ فرٹیلائز پراڈکشن (زرعی ملک ہونے کے سبب اس کی اہمیت بے پناہ ہے)، ٹرانسپورٹیشن اور گھریلو استعمال میں بھی بے تحاشا استعمال ہوتی ہے۔لیکن جہاں دنیا اس طریقہ سے بجلی حاصل کرنے کو ترک کر رہی ہے وہیں پاکستان اسے اپنا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پاکستان میں درجہ حرارت حد درجے تک بڑھنے لگا ہے۔ لہٰذااس وقت جو کام حکومت کے لیے کرنا ضروری ہیں ، ان میں سب سے اہم اگر ہمیں انرجی پلانٹس چلانے بہت ضروری ہیں توانہیں تیل کے بجائے گیس پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے گیس کے نئے ذخیرے دریافت کرنا بے حد ضروری ہے۔ گیس سے توانائی کے حصول میں ایک تو ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی ، دوسرے مقامی سطح پر پیدا ہونے سے ملک سے سرمائے کا انخلا بھی رکے گا جو کہ اس وقت پاکستان کے بنیادی مسائل کی جڑ ہے۔ ہم اپنی کمائی کا بڑا حصہ تیل کے حصول میں خرچ کردیتے ہیں ، حالانکہ اس رقم سے ہم اپنے ملک میں معاشی انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔دوسرا سب سے اہم کام یہ ہے کہ بڑے بڑے ڈیم تعمیر کیے جائیں۔ پاکستان سترہ دریائوں والا ملک ہے اور ایک مرتبہ ڈیم کی تعمیر میں خرچ ہونے والا سرمایہ آئندہ نسلوں تک نہ صرف یہ کہ انتہائی سستی اور صاف ستھری توانائی کے حصول کا ضامن ہوتا ہے بلکہ ملک کی آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ سابقہ حکومت نے کئی ڈیموں کے منصوبوں پر عمل درآمد کا آغاز کیا، لیکن میرے خیال میں اْنہیں قومی مفاد میں آگے بڑھانا چاہیے،بلکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماضی میں کئی کئی دہائیوں تک حکومت میں رہنے والی جماعتیں اس طرف توجہ دیتیں اور جہاں ڈیموں کے بننے سے پانی کے ذخیرہ کرنے کا مسئلہ حل ہو جاتا وہاں اس سے سستی بجلی بھی دستیاب ہوتی۔ ستم تو یہ ہے کہ ماضی میں بجلی کی سستی پیداوار کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور پانی کے منصوبوں کے بجائے گیس، ڈیزل اور پٹرول سے بجلی کے پیداواری یونٹ لگائے گئے جن کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی نہ صرف بہت مہنگی ہوتی بلکہ اس سے ماحولیاتی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کو جن مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے ان میں سے بہت سے مسائل بہت پرانے ہیں اور جن کو حل کرنے کے لئے اب حکومت کو منصوبہ بندی کرنا پڑ رہی ہے اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہے تاہم اس ان طویل وقتی اور دوررس اہمیت کے حامل منصوبوں کے ساتھ ساتھ وقتی طور پر مسائل کے حل کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔تاکہ عوام کی پریشانی ختم ہو اور وہ ایک نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔

مصنف کے بارے میں