انتخابات وقت کا تقاضا

انتخابات وقت کا تقاضا

بلاشبہ عمران حکومت نے مالیاتی اداروں سے وقت گزاری کے لیے جو معاہدے کیے تھے، ان کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے اس دہانے پر کھڑی ہے کہ اگر یہ کہا کہ دیوالیہ نکلنے کے قریب ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ اس نے اپنے پونے چار سال گورننس کو بہتر کرنے کی ترجیحات کو پس پشت ڈال کر اپنی ساری توانائی اپوزیشن کو کھڈے لائن لگانے کے پاگل پن میں ضائع کر دیے۔ عوامی امنگوں پر کسی طور بھی پورا نہ اتر سکے بلکہ گالم گلوچ کی سیاست کو پروان چڑھانے کا وہ اخلاقی جرم کیا ہے جس طرح کا ایک جرم ماضی کے حکمران نے برادری عزم کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی الٹا سیاست میں شدت پسندی کو ایسی ہوا دی ہے کہ اب ٹی وی شوز اور جگہ جگہ لسانیت کی فضا پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ معاشرہ کو تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے گزشتہ دنوں مسجد نبویؐ میں جو ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی نے تو پہلے ہی عوام کی کمر توڑ کر رکھی ہے۔ اوپر سے غیر یقینی صورت حال سے ہر کوئی پریشان ہے کہ نجانے آنے والے دنوں میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کیا رنگ لائے گی۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں ہو سکتا ہے کہ شہباز شریف صاحب کوئی درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں مگر فی الحال اس کو صرف نیک خواہش ہی کہا جا سکتا ہے مگر ایک بات یہ ضرور ہے کہ عمران خان کو عدم اعتماد تحریک کے ذریعے ہٹانے کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے کندھے فراہم کر کے ان حلقوں کی طاقت کو دوام بخش دیا ہے 

جن کا وتیرہ ہی حکومتیں بنانا اور حکومتیں چلتی کرنا ہے۔ عمران خان جن کو کبھی تھرڈ ایمپائر کہا کرتے تھے، اب آنے والے دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے اس کی کسی کو سمجھ نہیں آرہی۔ یہاں تک بات آن پہنچی ہے کہ کچھ لوگ یہ چہ میگوئیاں کر رہے ہیں کہ عمران خان کو دوبارہ لانے کے لیے ایک کھیل کھیلا گیا ہے تا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو مضبوط نہ ہونے دیا جائے اور ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت دونوں سیاسی جماعتوں کے بیانیہ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ عمران حکومت کو اگر چلتا نہ کیا جاتا تو وہ اپنی موت آپ مرنے کے قریب تھا۔ آئندہ انتخابات میں عمران کے پاس لوگوں میں جانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی۔ جب سے عمران خان نے امریکی سازش کا جھوٹا نعرہ لگایا ہے، حکومت گرانے کے پیچھے امریکی مداخلت کا جواز پیدا کیا ہے، اس کے جلسوں میں لوگوں کا سمندر امڈا ہوا نظر آتا ہے۔ جہاں جہاں بھی عمران خان نے اپنی حکومت گرنے کے بعد جلسہ کیا ہے کہیں بھی اس نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اس نے عوام کے لیے یہ کیا کیونکہ اس کے پاس کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اس نے چور چور کا شور مچانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا اب موجودہ حکومت عمران خان کے کیے گئے غلط معاہدوں کی وجہ سے دن بدن معاشی مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور عمران خان کی نا اہلی کے سبب ہونے والی معاشی تباہی کو اپنی کمر پر لادے بیٹھی ہے۔ جس کا تحریک انصاف فائدہ اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو  نقصان ہو رہا ہے۔ عمران خان کو حکومت میں لانے والے اور گھر بھیجنے والے تماشائی تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہیے یا تو اپنے ذاتی جمع پونجی کا تیسرا حصہ ملکی خزانے میں جمع کرا کر ملکی معیشت کو سہارا دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیں یا پھر بلا تاخیر نگران حکومت بنا کر انتخابات کا اعلان کر دیں اگر یہ بروقت نہ کیا گیا تو دونوں سیاسی جماعتوں کو اس تاخیر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مقتدر حلقے اور عمران خان تازہ دم ہو کر جب باہر نکلیں گے تو اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ عمران خان کی حکومت گرانے کی غلطی سدھارنے کا واحد حل انتخابات ہیں۔ عوام بخوبی یہ ادراک رکھتے ہیں کہ عمران حکومت نے پونے چار سال میں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے علاوہ کیا کوئی نہیں کیا ہے۔ اس لیے کوئی تو ہو جو موجودہ حکمرانوں کو یہ باور کرا سکے کہ عمران خان اور اس کے حواریوں کو چت کرنے کے لیے جلد از جلد انتخابات بہت ضروری ہیں۔ 

مصنف کے بارے میں