کرکٹ کے پندرہ تار یخی ریکارڈ ،پاکستانی کھلاڑی بھی شامل

کرکٹ کے پندرہ تار یخی ریکارڈ ،پاکستانی کھلاڑی بھی شامل

ریکارڈ بک میں جتنی تبدیلیاں ایک کرکٹ میچ سے ہوتی ہیں، شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے کھیل میں ہوتی ہوں۔ لیکن کرکٹ تاریخ کے کچھ ریکارڈز ایسے ہیں جو بہت منفرد ہیں۔ جیسا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ گیندیں کس نے کھیلی ہیں؟ کس نے صرف 14 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا؟ یا ایک ہی میچ میں دو ہیٹ ٹرک کرنے والا واحد کھلاڑی کون تھا؟ ایسے زبردست ریکارڈز کے بارے میں آئیے آپ کو بتاتے ہیں:


1۔ ایک ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ چھکے

سابق پاکستانی کپتان وسیم اکرم مشہور تو اپنی باؤلنگ کی وجہ سے ہیں لیکن ان کے پاس ایک ایسا ریکارڈ بھی ہے جو آج 20 سال گزر جانے کے بعد بھی نہیں ٹوٹا۔ انہوں نے زمبابوے کے خلاف شیخوپورہ ٹیسٹ 1996ء میں ناٹ آؤٹ 257 رنز بنائے تھے اور اس دوران 12 چھکے بھی رسید کیے۔ یوں والی ہیمنڈ کا 10 چھکوں کا قدیم ریکارڈ توڑ دیا جو انہوں نے اپنی تاریخی 336 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کے دوران لگائے تھے۔

2۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ گیندوں کا سامنا

31 ہزار 258، جی ہاں! یہ ڈیڑھ دہائی تک کھیلی گئی وہ گیندیں ہیں جن کا سامنا بھارت کے راہول ڈریوڈ نے کیا۔ وہ تاریخ کے واحد بیٹمسین ہی جنہوں نے 30 ہزار سے زیادہ گیندیں کھیلی ہیں۔

3۔ سست ترین ٹیسٹ ففٹی

انگلینڈ کے آل راؤنڈر ٹریور بیلی کا دفاع ایسا تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سست ترین نصف سنچری تک بنا گئے۔ 357 منٹ تک کھیل کے دوران انہوں نے ساڑھے تین سو گیندیں کھیلیں لیکن اس کے باوجود انگلینڈ کو میچ نہیں جتوا سکے۔

4۔ سب سے زیادہ میچز بحیثیت ٹیسٹ کپتان

جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ جب 2014ء میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تو کپتان کی حیثیت سے ان کے 11 سالہ عہد میں کل 109 ٹیسٹ میچز تھے۔ آسٹریلیا کے ایلن بارڈر 93 میچز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

5۔ ایک ہی میچ میں دو ہیٹ ٹرکس

تاریخ کے پہلے اور واحد باؤلر جنہوں نے کسی ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں ہیٹ ٹرکس کیں، آسٹریلیا کے جمی میتھیوز ہیں۔ 1912ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے میچ میں انہوں نے پروٹیز کی آخری تین وکٹیں تین گیندوں پر حاصل کیں۔ پھر دوسری اننگز میں بھی مسلسل تین گیندوں پر تین بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا۔

6۔ سب سے زیادہ 'پیئرز'

کرکٹ کی اصطلاح میں 'پیئر' اس کو کہتے ہیں جب ایک بیٹسمین کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں 'صفر' پر آؤٹ ہو۔ نیوزی لینڈ کے کرس مارٹن اس وقت 'کنگ آف پیئرز' ہیں۔ انہوں نے 71 میچز کھیلے اور ان میں 7 'پیئرز' حاصل کیے۔ وہ اپنے پورے کیریئر میں 36 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔

7۔ ٹیسٹ میں سب سے زیادہ صفر

لیکن ٹیسٹ میں سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ کرس مارٹن کا نہیں، یہ شرمناک اعزاز ویسٹ انڈیز کے کورٹنی واش کو حاصل ہے۔ وہ اپنے 17 سالہ کیریئر میں 43 مرتبہ زیرو پر آؤٹ ہوئے۔

8۔ صفر پر آؤٹ نہ ہونے والا

ایک طرف کورٹنی واش اور کرس مارٹن ہیں تو دوسری طرف کیپلر ویسلز، جو اپنے پورے ون ڈے کیریئر میںایک بار بھی صفر پر آؤٹ نہیں ہوئے۔ پہلے آسٹریلیا اور پھر جنوبی افریقہ کی طرف سے کھیلنے والے کیپلر ویسلز نے 1983ء سے 1994ء کے دوران کل 109 ون ڈے میچز کھیلے اور ایک مرتبہ بھی صفر پر واپس نہیں آئے۔

9۔ ایک میچ میں سب سے زیادہ وکٹیں

انگلینڈ کے عظیم آف اسپنر جم لیکر کا نام امر رہے گا۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں صرف 90 رنز دے کر 19 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا جس میں انہوں نے دوسری اننگز میں تمام 10 وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ وہ پہلی اننگز میں 9 وکٹیں لے چکے تھے۔

10۔ سب سے کم عمر میں ون ڈے سنچری

پاکستان کے شاہد آفریدی نے صرف 16 سال اور 217 دن کی عمر میں اپنی پہلی ون ڈے سنچری بنائی جو کئی لحاظ سے تاریخی تھی۔ سری لنکا کے خلاف نیروبی میں بنائی گئی سنچری صرف 37 گیندوں پر مکمل کی گئی تھی یعنی ون ڈے تاریخ کی تیز ترین سنچری کا نیا ریکارڈ تھا جو 19 سال تک برقرار بھی رہا۔

11۔ مسلسل سب سے زیادہ ون ڈے فتوحات

آسٹریلیا کا کرکٹ ریکارڈ غیر معمولی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس ٹیم نے مسلسل 21 ون ڈے میچز جیتنے کا ریکارڈ بھی قائم کر رکھا ہے۔ رکی پونٹنگ کی قیادت میں جنوری 2003ء میں انگلینڈ کے خلاف 7 رنز کی فتح حاصل کرنے کے بعد ٹیم اس سال مئی میں دورۂ ویسٹ انڈیز تک مسلسل تمام میچز جیتتی رہی۔ اس میں 2003ء کے ورلڈ کپ کا کامیاب دفاع بھی شامل تھا کہ جس میں آسٹریلیا نے ایک میچ بھی نہیں ہارا تھا۔

12۔ کم عمر ترین ون ڈے پلیئر

پاکستان کے حسن رضا نے 1996ء میں زمبابوے کے خلاف پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا جب ان کی عمر صرف 14 سال اور 233 دن تھی۔ یہ کسی بھی انٹرنیشنل پلیئر کی سب سے کم عمر ہے۔

13۔ ایک میچ میں سب سے زیادہ رنز دینے والا باؤلر

آسٹریلیا کے مک لوئس نے 2006ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ میں اپنے 10 اوورز میں 113 رنز دیے۔ یہ وہ تاریخی مقابلہ تھا جس میں جنوبی افریقہ نے 434 رنز کا ریکارڈ ہدف کامیابی سے حاصل کیا تھا۔ اس میچ کے دوران مک لوئس کی باؤلنگ پر 13 چوکے اور 4 چھکے پڑے تھے۔

14۔ ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز

ون ڈے کرکٹ میں یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز کے پاس ہے جنہوں نے ورلڈ کپ 2007ء میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک ہی اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھکے لگائے تھے۔ ان کے بنائے گئے 36 رنز کسی بھی ون ڈے اوور میں بننے والے سب سے زیادہ رنز ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کے علاوہ یہ کارنامہ ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کے یووراج سنگھ نے انجام دیا۔ جنہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء میں انگلینڈ کے اسٹورٹ براڈ کو مسلسل چھ چھکے لگائے تھے۔

15۔ مسلسل ففٹیز

پاکستان کی تاریخ کے بہترین بیٹسمین جاوید میانداد نے مسلسل 9 ون ڈے اننگز میں نصف سنچریاں بنائی تھیں جو دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھی آج ریکارڈ کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے حیدرآباد، سندھ میں سری لنکا کے خلاف نصف سنچری بنائی اور پھر 68، 71*، 113، 52*، 60، 74*، 78* اور 78 رنز کی اننگز کھیلیں، جس میں بھارت کے خلاف بھی میچز کھیلے گئے تھے۔