سعودی ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں ساڑھے 7لاکھ غیر قانونی تارکین میں20فیصد پاکستانی شامل، رپورٹ

ریاض: سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔

ان میں 20 فیصد پاکستانی ، 10 فیصد ہندوستانی، 12 فیصد مصری، 10 فیصد ایتھوپین، 8 فیصد مراکشی، 7 فیصد بنگلہ دیشی، 6 فیصد سوڈانی، 6 فیصد یمنی، 4 ، 4 فیصد ترکی و الجزائری، 2 ، 2 فیصد انڈونیشی، فلپائنی اور عراقی شامل تھے۔ ان میں سے 37 فیصد ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے براہ راست وطن واپس ہوئے ۔ بیشتر حج ، عمر، زیارت یا ٹرانزٹ ویزوں پر مملکت آئے تھے۔ مہلت کے دوران 60 فیصد غیرقانونی تارکین ادارے ترحیل کے توسط سے واپسی کی کارروائی کرکے وطن گئے۔ الترکی نے توجہ دلائی کہ 3 فیصد نے ابھی تک سعودی عرب سے سفر نہیں کیا امید ہے کہ ویزوں کی میعاد ختم ہونے سے قبل یہ لوگ مملکت کو خیرباد کہہ دیں گے۔ الترکی نے کہا کہ مملکت میں ایسے تارکین وطن بھی ہیں جو ڈیوٹی سے غیرحاضر ہیں یا کئی برس سے اقامہ کی تجدید کرائے بغیر رہ رہے ہیں۔

بعض کے پاس اقامہ ہی نہیں ہے۔ بہت سارے درانداز بھی ہیں۔ وہ جمعرات کو ریاض سیکیورٹی فورسز افسران کلب میں پریس کانفرنس کے دوران شاہی مہلت اور غیرقانونی قیام کے بابت سرکاری بیان اور صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ الترکی نے بتایا کہ غیرقانونی طور پر مقیم مصریوں کیلئے 6 ماہ کی مہلت ہنوز باقی ہے انہیں مہلت کے اندر خودبخود روانہ ہونا ہوگا تاکہ مہلت کی بدولت منفی آثار سے محفوظ رہیں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں موجود وزارت محنت کے ترجمان خالد ابالخیل نے بتایا کہ 800 انسپکٹرز محنت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کیلئے فیلڈ میں کام کررہے ہیں ۔ سرکاری اداروں سے بھی تعاون حاصل کیا جارہا ہے۔