مجھے چار سال سے ہراساں کیا جا رہا ہے، اب مزید خاموش نہیں رہوں گی، حمائمہ ملک

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ حمائمہ ملک کا کہنا ہے کہ انہیں کئی عرصے سے نازیبا اور دھمکی آمیز   پیغامات موصول ہورہے ہیں اور گزشتہ  4 سال سے وہ سخت ذہنی تشدد کا شکار ہیں، تاہم اب انہوں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔خواتین، کم عمر بچوں اور بچیوں کو ہراساں کرناہمارے معاشرے کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ خواتین چاہے اپنے گھر میں ہوں، باہرہوں یا کسی گاڑی میں سفر کررہی ہوں کبھی نہ کبھی اس دور سے ضرور گزرتی ہیں۔ صرف مشرقی ممالک میں ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے تاہم وہاں زیادہ تر خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے ٹیکنا لوجی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اورموبائل پر بھیجے جانے والے قابل اعتراض پیغامات کے ذریعے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کو عرف عام میں ’’سائبرکرائم‘‘کہتے ہیں۔ سائبر کرائم جیسے واقعات مغربی ممالک سے نکل کر اب مشرقی ممالک تک پہنچ گئے ہیں جس کا حال ہی میں شکار ہوئی ہیں پاکستان کی خوبرو اداکارہ و ماڈل حمائمہ ملک ۔اداکارہ حمائمہ ملک کا شمار پاکستان کی ان نامور اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو بھارت میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ چکی ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ 4 سال سے سائبر بلنگ کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے اور وہ اکیلی یہ ذہنی تشدد برداشت کررہی ہیں۔ تاہم اب انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

حمائمہ ملک کا کہنا ہے کہ مجھے کئی ماہ سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں جن کے باعث میں گزشتہ 4 سال سے سخت ذہنی تناؤ کا شکار ہوں مجھے موصول ہونے والے دھمکی بھرے پیغامات نے میری زندگی کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے لیکن اب میں مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس تشدد کا ختم کردیا جائے۔ اگر ہم ابھی اس پر بات نہیں کریں گے تو کب کریں گے۔ بحیثیت انسان مجھے معلوم ہے کہ سوسائٹی،شوبز انڈسٹری میری فیملی اور خود میرے لیے میری کیا ذمہ داریاں ہیں میں اب مزید خاموش نہیں رہوں گی۔

واضح رہے کہ اداکارہ حمائمہ ملک ان دنوں پاکستانی اداکار شان شاہد کی فلم ’’ارتھ‘‘کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ یہ فلم 1982 میں ریلیز کی گئی بھارتی فلم ’’ارتھ‘‘کا پاکستانی ورڑن ہے جس کی ہدایت کاری کے فرائض مہیش بھٹ نے ادا کیے تھے۔ فلم رواں سال 21 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں